پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

جرمنی میں پاکستانی پھلوں و سبزیوں کی نمائش ، کنو اور آم توجہ کا مرکز

datetime 9  فروری‬‮  2016 |

برلن(نیوز ڈیسک)جرمنی میں ہونے والے عالمی تجارتی میلے میں جہاں دنیا کے مختلف ممالک کے پھلوں اور سبزیوں کی نمائش منعقد ہوئی وہیں پاکستانی کنو اور آم نے لوگوں کے دل جیت لئے۔ ’فروٹ لوجسٹیکا2016‘کے عنوان سے منعقدہ نمائش میں 84ممالک کی آٹھ ہزار سے زائد زرعی و تجارتی کمپنیوں نے پھلوں اور سبزیوں کی نمائش میں شرکت کی- نمائش میں سیب ،کیلے سب سےزیادہ پسند کیے جانے والے پھلوں میں شمار ہوئے جبکہ پاکستانی کِنو، اور آم مداحوں کی توجہ کا خاص مرکز رہے-پاکستانی پویلین کا افتتاح جرمنی میں تعینات پاکستان کے سفیر جوہر سلیم نے کیا۔ انہوں نے پاکستانی پھلوں اور سبزیوں کے اسٹالز کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پرقومی اخبار سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ نمائش میں شرکت پاکستان کے لئے خوش آئند ہے تاہم پویلین کو آئندہ سالوں میں مزید پرکشش بنایا اور عوامی دلچسپی کے مطابق ڈھالا جائے گا۔ جنگ رپورٹر عرفان آفتاب کے مطابق اس کے لئے برلن کی پاکستانی ایمبیسی بھی ہر ممکن تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔ زراعت اور صنعت سے وابستہ 10 سے زائد پاکستانی کمپنیوں اور تاجروںنے نمائش میں شرکت کی۔اس موقع پر آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبلز امپورٹ ایکسپورٹ اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید احمد کا کہنا تھا کہ نمائش نہ صرف یورپ بلکہ روس، یوکرین، کینیڈا اور امریکہ سمیت پوری دنیا سے امپورٹ ایکسپورٹ کے آرڈر کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سال 20ملین یورو کے کاروبار ی ہدف کے حصول کی امید رکھتے ہیں۔ادھر تاجر برادری کا کہنا تھا کہ یورپ میں آرگینک پھل خصوصاً کینو اور آم کی بہت زیادہ کھپت ہے لہذا پاکستان کو یورپ کی مارکیٹ کی ڈیمانڈ کو مدِنظر رکھتے ہوئے زرعی پیداوار میں موثر تبدیلی لاناہو گی- نمائش میں سندھ سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے زرعی پیداوار میں جدید ٹیکنک اپنانے پر توجہ رکھی۔ سندھ چیمبر آف ایگریکلچر کے جنرل سیکریٹری نبی بخش سیٹھو کا کہنا تھا کہ اگر سندھ کے کاشتکار جدید مشینری کے ذریعے زراعت و پیداوار کی طرف راغب ہوجائیں تو سندھ کا نہ صرف آم بلکہ پیاز، ہری مرچیں اور کھجوریں بھی یورپ کی سپر مارکیٹس میں دستیاب ہوںگی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…