بنگلور(نیوزو ڈیسک) بھارت میں انتہا پسندی ، عدم برداشت اور طالبہ پر تشد کے بعد تنزانیہ کے سفیر بھی بول پڑے۔ تنزانیہ کے سفیر جون کجازی کا کہنا ہے کہ طالبہ پر حملہ نسلی امتیاز کی وجہ سے کیا گیا۔ اکیسویں صدی میں ایسا حملہ کسی ملک میں نہیں ہونا چاہیے۔ یہ حملہ بھارت میں پہلی بار نہیں ہوا ہے ہر سال اس طرح کے کئی حملے کیے جاتے ہیں۔ تنزانیہ نے اکیس سالہ طالبہ پر تشدد کیے جانے پر بھارتی حکومت سے تحقیقات تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری طرف بھارتی میڈیا کے مطابق تنزانیہ کے سفیر جون کجازی وزارت خارجہ کے سیکرٹری کے ہمراہ بنگلور جائیں گے جبکہ پولیس نے صرف پانچ افراد کو ہی گرفتار کیا ہے۔ گذشتہ اتوار کی رات بنگلور میں سینکڑوں لوگوں نے پولیس کی موجودگی میں تنزانیہ کی طالبہ کو برہنہ کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیاتھا اور ان کی گاڑی کو جلا دیا تھا۔
بھارت میں غیرملکی طالبہ کے ساتھ دلخراش واقعہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
گرمیوں کی طویل چھٹیوں پر نجی سکولز کے اعتراضات، حکومت کا بڑا فیصلہ
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
پاکستان میں عید الاضحیٰ کب ہوگی اور 17 مئی کو ذوالحج کا چاند نظر آنے کے کتنے امکانات ہیں؟ اہم پیشگو...
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
سرکاری ملازمین کیلئے بری خبر، تحقیقات کا اعلان
-
انمول پنکی کا ذاتی فلیٹ کہاں اور اس کی مالیت کتنی ہے؟ تفصیلات سامنے آگئیں
-
لاہورمیں 2 سگی بہنوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے والے 2 ملزمان مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن حوالے سے اہم فیصلہ کر لیا گیا
-
ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کے معاملے پر مریم نواز کا ایکشن



















































