جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

ریسکیو1122کی عوام سے بڑی اپیل

datetime 4  فروری‬‮  2016 |

پشاور(نیوزڈیسک) خیبرپختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 نے عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ ادارے کے ایمرجنسی فون نمبر پرغیر ضروری کال کرنے سے گریز کیا جائے۔ریسکیو سروس 1122 کے دفتر سے جاری ایک پریس ریلیزمیں عوام کی آگاہی کے لئے بتایا گیا ہے کہ ادارہ پشاوراورمردان میں اپنے قیام کے بعد عالمی معیار کی ایمرجنسی سروس کی طرح 7 منٹوں کے اوسط وقت میں کسی بھی حادثے کی صورت میں اپنی خدمات فراہم کرتا ہے۔ اس ریسکیوسروس نے اپنے آغاز سے ایک طرف اگر ایمرجنسی حادثات کے بارے میں عوام کی طرف سے موصول ہونے والی بے تحاشا کالزپربروقت اقدامات اٹھائے ہیں تواسی طرح اس ایمرجنسی سروس کو پشاوراورمردان کے اضلاع سے تقریباً1,955,975 جعلی اورخالی کالز موصول ہوئیں جن میں سے 285 جعلی کالز پر ایکشن لینے کی وجہ سے محض وقت اور ادارے کے وسائل کاضیاع ہوا اور اس سے ادارے کی مفید سرگرمی متاثر ہوئی۔ اس سروس کافری ڈائلنگ نمبر غلط استعمال کیاگیا کیونکہ بغیر ضرورت 1122 سروس کے فری ڈائلنگ فون نمبر کومصروف رکھنے سے حقیقی ایمرجنسی کے واقعات یا توایکشن لینے سے رہ جاتے ہیں اوریا اس میں دیر ہونے کا اندیشہ ہوتاہے۔ ریسکیو 1122سروس خیبرپختونخوا کی جانب سے موصول ہونے والے ایمرجنسی کالز اورریسکیو اپریشن کے حوالے سے تفصیلی مجموعی رپورٹ کے مطابق اگر ایک طرف ادارے نے ٹریفک حادثات، آگ لگنے ، عمارات کے انہدام ،بم دھماکوں ،پانی میں ڈوبنے ،ابتدائی طبی امدادکی فراہمی،ہسپتالوں کو مریضوں کے لے جانے جیسے واقعات میں اپنی فوری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے تواس ایمرجنسی سروس کو ضلع پشاور اورمردان میں متعلقہ موصولہ مجموعی رپورٹ کے مطابق اب تک تقریباً830477 نفرت انگیز اورغیر متعلقہ فون کالز موصول ہوئی ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ 1111946 کے لگ بگ خالی اور حقیقت کے منافی فون کالز موصول ہوئیں ہیں۔ اسی طرح ایمرجنسی ریسکیو سروس نے 13552 کے قریب جعلی فون کالز موصول کیں جن میں سے ادارے نے 285 جعلی کالز پربروقت اقدامات بھی کئے۔ایمر جنسی ریسکیو سروس 1122 کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسد علی خان نے اس سروس کے مفیداستعمال کے سلسلے میں عوام الناس سے اپنے پیغام میں اپیل کی ہے کہاکہ اس ادارے کے ایمرجنسی فری فون نمبر کوغیرضروری طورپر استعمال کرنے سے گریزکیا جائے۔کیونکہ اس حادثاتی امدادی ادارے کاکردار موت اورزندگی سے متعلق موصولہ کالز پرمنحصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہنگامی خدمات کے ادارے نے بروقت سہولیات کی فراہمی کی غرض سے ضلع پشاور کو 12 مختلف مقامات میں تقسیم کیا ہے اورٹریفک ہجوم کے باوجود7 منٹ کے اوسط وقت میں کسی بھی جگہ یہ سروس عوام کی مددکیلئے پہنچ جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سروس کو دیگراضلاع تک وسعت دینے کااعلان بھی ہوچکا ہے اوراس سلسلے میں سوات ،ایبٹ آباد اورڈیرہ اسماعیل خان کے لئے اہلکاروں کوبھرتی کرکے انہیں تربیت کے لئے لاہور ایمرجنسی سروس اکیڈمی بھیجا گیاہے۔یہ سروس پہلے مرحلے میں تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرزاس کے بعداضلاع اوربعد میں تحصیل کی سطح تک لے جایا جائیگاجبکہ ایمرجنسی سروس عوام کو کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے مفت تربیت بھی فراہم کررہا ہے جس میں اب تک دس ہزار سے زائد سرکاری اداروں کے افراد اور عام عوام کو تربیت فراہم کی گئی ہے اور بہترین کاکردگی پر عالمی ادارے یو ایس ایڈ نے ایمرجنسی ریسکیو سروس کی تعریف کی ہے اسی طرح چیف سیکرٹری خیبرپختونخواکی جانب سے بھی اس ریسکیو سروس کو اعزازی سند سے نوازا گیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…