بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

مکہ کرین حادثہ، 40 افراد عدالتوں میں پیش

datetime 2  فروری‬‮  2016 |
A construction crane which crashed in the Grand Mosque is pictured in the Muslim holy city of Mecca, Saudi Arabia September 12, 2015. At least 107 people were killed when the crane toppled over at Mecca's Grand Mosque on Friday, Saudi Arabia's Civil Defence authority said, less than two weeks before Islam's annual haj pilgrimage. REUTERS/Mohamed Al Hwaity TPX IMAGES OF THE DAY - RTSR6Q

سعودی عرب (نیوز ڈیسک)سعودی عرب کے مقامی میڈیا کے مطابق ماہ ستمبر میں مسجد الحرام میں ہونے والے کرین حادثے میں ملوث ہونے کے مقدمے میں 40 کے قریب افراد تین مختلف عدالتوں کے سامنے پیش ہوںگے۔مکہ کے بیورو آف انویسٹی گیشن اور پبلک پراسیکیوشن کو اس کیس کی فائل موصول ہوگئی ہے جو کہ ریاض آفس میں جمع کروائی گئی تھی تاکہ اس کی مزید سکروٹنی کی جاسکے۔ملزمان میں تعمیراتی گروپ بن لادن کے 30 اعلیٰ عہدیداران، ڈائریکٹر اور ٹیکنیشن شامل ہیں جبکہ دیگر 10 افراد سرکاری محکموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ذرائع کو امید ہے کہ اگلے ہفتے مزید افراد سے تفتیش کے بعد مدعا علیہان کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پراسیکیوٹر جنرل ابھی مدعا علیہان کے خلاف الزامات کی فہرست تیار کررہے ہیں۔سمری کورٹ اس مقدمے کے مجرمانہ پہلو کو دیکھے گی اور ملزمان کے خلاف صوابدیدی فیصلے جاری کرے گی۔ جنرل کورٹ میں دیت اور دیگر جرمانوں کے معاملے کو دیکھا جائے گا جبکہ انتظامی کورٹ میں تعمیراتی کمپنی اور حکومتی محکموں کے درمیان ہونے والے کنٹریکٹ کی خلاف ورزیوں پر فیصلہ دے گی۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے بین الاقوامی حفاظتی کمپنیوں کے متعدد افراد اور 200 سے زائد انجینئرز، مینیجرز اور بورڈ آف ڈائریکٹر کے ممبران سے بات کی ہے۔کمیٹی نے کرین کے آپریشن کے دستاویزات، دیکھ بھال کے معاہدوں اور مسجد حرام کی توسیع کے منصوبے میں حفاظتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔اس کے علاوہ کمیٹی نے کرین بنانے والی کمپنی سے معلومات اور سول ڈیفنس اور محکمہ موسمیات سے رپورٹس حاصل کی ہیں۔ذرائع کے مابق مدعا علیہان کو لاپرواہی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے نتیجے میں انہیں املاک اور انسانی جانوں کے ضیاع پر دیت ادا کرنے کا حکم دیا جاسکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…