لندن (نیوز ڈیسک)برطانیہ کے معروف قانون دان مزمل مختار نے کہا ہے کہ غیرقانونی طور پر مقیم اور ویزا کی مدت سے زائد قیام کرنے والے افراد کو بھی برطانیہ میں مستقل قیام کی اجازت ملنا ممکن ہے۔ سنتھس چیمبرز سالیسٹرز کے ڈائریکٹر سالیسٹر مزمل مختار نے جنگ لندن کو انٹرویو دیتے ہوئے مزید کہا کہ غیرقانونی افراد یا قیام کی مدت سے زائد رہنے والے بیشتر افراد کو اپنے حقوق کے بارے میں علم نہیں ہوتا۔جنگ رپورٹرسعید نیازی کے مطابق موجودہ قانون کے مطابق اگر وہ ایک مقررہ وقت سے یہاں قیام پذیر ہیں اور ان کے اس ملک سے گہرے روابط پیدا ہوگئے ہیں اور وہ معاشرہ میں ضم ہوچکے ہیں تو پھر انسانی حقوق کے حوالے سے انہیں اس ملک میں قیام کی اجازت ملنا ممکن ہے۔ بیڈرومز سے متعلق کورٹ آف اپیل کے فیصلہ کو انہوں نے تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ جب یہ فیصلہ متعارف کرایا گیا تو اس سے نہ صرف ایشیائی بلکہ تمام کمیونٹیز بری طرح متاثر ہوئی تھیں۔ ایسے افراد جو بینیفٹ لے رہے ہیں اور وہ گھر میں کسی معذور کی دیکھ بھال کررہے ہیں یا گھر میں تشدد سے متاثر ہیں، ان لوگوں کے گھروں میں اگر کوئی اضافی کمرہ ہے تو وہ بہت اہم ہے۔ اضافی کمرے کی صورت میں معذور شخص کی دیکھ بھال کرنے والے کیئررز وہاں رات میں قیام کرسکتے ہیں۔ اگر کسی کو 24گھنٹے کی نگہداشت درکار ہے اور اس کے کیئررز اس کے پاس جگہ کی کمی کے سبب قیام نہیں کرسکتے تو وہ اس معذور شخص کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ خصوصاً گھریلو تشدد یا نیشنل ہیلتھ ایشوز والے افراد کیلئے بھی اضافی کمرہ اہم ہے۔ حکومت کو سپریم کورٹ سے اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت مل گئی ہے اور اب حکومت اس کیس کو جیتنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ سپاوز ویزا کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے سپاوز کو بلوانے کیلئے 18ہزار 600پونڈ سالانہ تنخواہ کی شرط لگ گئی ہے جوکہ میرے خیال میں غیرمنصفانہ ہے۔ اس حوالے سے جسٹس بلیک نے تاریخی فیصلہ دیا ہے کہ لندن میں رہنے والے مڈل کلاس کے لوگ بھی سالانہ اتنی رقم نہیں کماتے کہ دیگر علاقوں میں رہنے والے کس طرح سپاوز کو بلوا سکیں گے۔ بدقسمتی سے یہ فیصلہ کورٹ آف اپیل سے مسترد ہوگیا ہے اور اب یہ کیس ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے۔ جو لوگ اس سے متاثر ہورہے ہیں ہم ان کا کیس اعلیٰ عدالتوں میں دائر کرکے انہیں کیس میں پارٹی بناسکتے ہیں کیونکہ آنے والا فیصلہ پہلے سے دی گئی درخواستوں پر بھی لاگو ہوگا۔ اسائلم کے حوالے سے مزمل مختار نے کہا کہ آج کل اسائلم کے کیس منظور کئے جانے کی شرح بہت کم ہے۔ 90فیصد کیسوں میں ابتدائی طور پر ہی انکار کردیا جاتا ہے جوکہ پھر عدالتوں میں جاتے ہیں۔ انسانی حقوق کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں اپیل کا حق تو حاصل ہے لیکن سیکرٹری آف سٹیٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر اس شخص کو اپنے آبائی ملک میں زیادہ خطرہ نہیں تو وہ یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ شخص اسائلم کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اپنے آبائی ملک میں جاکر وہاں سے اپیل کرے۔ گزشتہ برس لاگو ہونے والے امیگریشن ایکٹ 2014ء کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس میں اپیل کا حق ختم ہی کردیا گیا ہے۔ پوائنٹس کی بنیاد پر جو سسٹم ہے اسمیں بھی اپیل کا حق ختم کردیاگیا ہے۔ زائد قیام اور غیرقانون طور پر مقیم افراد کو گھردینا بھی جرم ٹھہرا دیا گیا ہے۔ اس موضوع پر پارلیمنٹ میں بھی بحث جاری ہے۔ کیونکہ اپیل کرنا کسی بھی شخص کا بنیادی حق ہے۔ اس کو ختم کرنا غیرانسانی اور غیرمنصافانہ ہے۔ مستقبل قریب میں وہ اس قانون کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ مزمل مختار نے بتایا کہ انہوں نے قانون کی ابتدائی تربیت عابد حسن منٹو کے ساتھ کام کرکے حاصل کی اور وہ بائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں۔
غیرقانونی یا زائد قیام والوں کومستقل قیام کا حق مل سکتا ہے، مزمل مختار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
بھارت کے معروف اداکار چل بسے
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی



















































