بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پناہ گزینوں کا بحران، جرمنی کا نئے اقدامات کا فیصلہ

datetime 29  جنوری‬‮  2016 |

برلن(نیوز ڈیسک)جرمنی میں حکمران اتحاد نے ملک کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد پر قابو پانے کے لیے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔پناہ گزینوں کے حالیہ بحران کے دوران سنہ 2015 میں جرمنی میں 11 لاکھ سے زیادہ پناہ گزین داخل ہوئے ہیں۔اس تجاویز پر اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کے اہم اجلاس میں اتفاقِ رائے کیا گیا۔اجلاس کے بعد اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے جرمن وائس چانسلر سگمار گیبریئل کا کہنا تھا کہ وہ پناہ گزین جن کا درجہ محدود ہوگا وہ دو برس تک اپنے رشتہ داروں کو جرمنی نہیں بلا سکیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمنی الجزائر، مراکش اور تیونس کو محفوظ ممالک کی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے بعد ان ممالک کے شہری جرمنی میں پناہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔مراکش نے جرمن وائس چانسلر کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ایسے باشندوں کو واپس قبول کرے گا جو غیرقانونی طور پر جرمنی میں داخل ہوئے ہوں گے۔سگمار گیبریئل نے ایسے پناہ گزینوں کی ان کے متعلقہ ممالک میں واپسی کا عمل بھی تیز کرنے کا اعلان کیا جن کی جرمنی میں پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ان تجاویز کی جرمن پارلیمان اور حکومت سے منظوری ضروری ہے۔پناہ گزینوں کے معاملے پر جرمنی میں حکمران اتحاد میں کھنچاؤ واضح ہے اور اس اتحاد کا حصہ کرسچیئن سوشل یونین کا کہنا ہے کہ اگر پناہ گزینوں کی آمد کے معاملے سے فیصلہ کن انداز میں نہ نمٹا گیا تو وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔خیال رہے کہ سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر جرمن شہر کولون میں پیش آنے والے تشدد اور جنسی حملوں کے واقعات کے بعد بھی ملک میں پناہ گزینوں کے خلاف جذبات بھڑکے ہیں۔ان معاملات کی تفتیش کرنے والے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد میں سے بیشتر تارکینِ وطن ہیں اور اْن کا تعلق شمالی افریقی اور عرب ممالک سے ہے۔خواتین سے بدسلوکی کے واقعات کی وجہ سے جرمنی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے جرائم میں ملوث پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قانون میں تبدیلیاں بھی تجویز کی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…