پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

این ایچ اے منصوبوں میں 137 ارب 43 کروڑ کی بے قاعدگیاں

datetime 27  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے منصوبوں میں 137 ارب 43 کروڑ 40 لاکھ روپے سےزائد کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے،سندھ میں ناقص شاہراوں کی تعمیر پر 43 ارب 68 کروڑ روپے اڑا دیے گئے ، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر حادثات میں ایک سال میں 765 افراد جاں بحق ہو گئے۔این ایچ اے نے قوم کے اربوں روپے ضائع کر دیے،لاڑکانہ پیکیج کے تحت 18 ارب 36 کروڑ روپے خرچ کرے ، جو منصوبے 2010 ئ میں مکمل ہونا تھے ، وہاں آج بھی کہیں بجری ڈالنے والی ہے تو کہیں زمین تک نہیں خریدی جا سکی ،یہ ہوشر با انکشافات آڈیٹر جنرل پاکستان کی آڈٹ رپورٹ برائے مالی سال 14۔2013ء میںکیے ہیں، این ایچ اے نے سکھر، جیکب آباد سیکشن پر 11 ارب 25 کروڑ روپےاین ایچ امپروومنٹ پروگرام کے تحت 5 ارب 17 کروڑ 73 لاکھ روپے اور سیلاب سے تباہ سڑکوں کی بحالی پر 4 ارب 50 کروڑ خرچ کیے، اوسطاً 1 کلومیٹر سڑک کی تعمیر پر 8 تا10 کروڑ روپے خرچہ آ یا۔رپورٹ کے مطابق سڑکوں کا معیار انتہائی ناقص ہے ، سڑکیں نہ صرف ٹوٹ پھوٹ چکی بلکہ حادثات کا باعث بھی بن رہی ہیں ،سندھ میں صرف سال 2013 ئ میں ٹریفک حادثات سے 756 افراد ہلاک ہوئے ، این ایچ معاملہ محکمانہ اکاونٹس کمیٹی میں بھی زیر بحث نہیں لائی۔ این ایچ اے نے 25 ارب روپے ملنے کے باوجود لاہور کراچی موٹروے کیلئے زمین نہیں خریدی،جن منصوبوں کیلئے ترقیاتی بجٹ منظور نہیں ہوا ،ان پر بھی 61 کروڑ روپے خرچ کر ڈالے۔ایکنک سے منظوری لیے بغیر لیاری ایکسپریس وے کی لاگت 4 ارب سے بڑھا کر 9 ارب روپے کر دی،پشاور ناردرن بائی پاس کیلئے زمین کی خریداری پر اضافی 1 ارب 33 کروڑ خرچ کئے، اسلام آباد پشاور موٹر وے پر 82 کروڑ 50 لاکھ روپے کا مہنگا پتھر جبکہ 62 لاکھ روپے کی گھاس لگا دی گئی،ٹال پلازہ کی بغیر منظوری کے توسیع دینے پر قومی خزانے کو سالانہ 2 ارب 10 کروڑ کا نقصان ہوا۔آڈیٹر جنرل پاکستان نے پیسوں کے ضیاع پر بارہا ،توجہ دلائی لیکن کانوں پہ جوں تک نہ رینگی، حد یہ ہے کہ پبلک ا کاو?نٹس کمیٹی نے بھی این ایچ اے کے بارے میں گزشتہ8ا? ڈٹ رپورٹس پر کوئی بحث نہیں کی، این ایچ کی شاہ خرچیاں جاری ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…