بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

سعودی عرب میں مبینہ بدسلوکی‘ یوگنڈا نے خادمائیں بھیجنا بند کر دیں

datetime 24  جنوری‬‮  2016 |

کمپالا(نیوز ڈیسک)سعودی عرب میں خادماو¿ں کے ساتھ بد سلوکی اور ان کے عمومی ابتر حالات کے سبب یوگنڈا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ ریاض حکومت کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کو پس پشت ڈالتے ہوئے آئندہ وہاں خادمائیں بھیجنا بند کر رہی ہے۔سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے ایک لگڑری شاپنگ مال میں خادمائیں ایک سعودی خاتون کے پیچھے پیچھے چل رہی ہیں۔ دارالحکومت کمپالا میں یہ اعلان کرتے ہوئے یوگنڈا کی حکومت نے یہ بھی کہا کہ خادمائیں بھیجنے کا یہ سلسلہ اس وقت تک بند رہے گا، جب تک کہ سعودی عرب میں کام کے حالات ٹھیک نہیں ہو جاتے۔ریاض اور کمپالا حکومتوں کے مابین گزشتہ سال جولائی میں ایک معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ یوگنڈا کے یونیورسٹی گریجویٹس کو معدنی تیل سے مالا مال سعودی عرب بھیجا جائے گا۔ یوگنڈا کی نوجوان نسل میں بے روزگاری کی شرح بہت زیادہ ہے اور اس معاہدے کا مقصد اس مسئلے سے بھی نمٹنا تھا۔کمپالا میں صنفی امور، محنت اور سماجی بہبود کی وزارت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ یوگنڈا کی حکومت کو اپنے ان ورکرز کی جانب سے بہت سی شکایات موصول ہوئیں، جن میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب میں آجرین کی جانب سے ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔کمپالا حکومت کی جانب سے تازہ اعلان ا?س آڈیو کلپ کے بعد ہوا ہے، جس کا رواں ہفتے یوگنڈا کے سوشل میڈیا میں بہت چرچا رہا اور جس میں یوگنڈا کے سعودی عرب میں کام کی غرض سے مقیم شہریوں نے یہ بتایا تھا کہ سعودی عرب میں انہیں قید میں رکھا جاتا ہے اور ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔انڈونیشیا بھی ا?ن ملکوں میں شامل ہے، جو سعودی عرب میں بنیادی حقوق کی ضمانت نہ ملنے تک اپنی خواتین کے خادماو¿ں کی حیثیت سے سعودی عرب کے سفر پر پابندی لگا چکے ہیں۔یوگنڈا کی جانب سے فراہم کردہ سرکاری اطلاعات کے مطابق کمپالا اور ریاض حکومتوں کے مابین معاہدے کے بعد سے تقریباً پانچ سو خادماو¿ں کو سعودی عرب بھیجا گیا۔ اینٹیبی ایئرپورٹ پر موجود ایک امیگریشن افسر کا البتہ اپنا نام ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر کہنا یہ تھا کہ ہر روز یوگنڈا کے اوسطاً ایک سو شہری کام کی تلاش میں سعودی عرب کا سفر اختیار کرتے ہیں۔اس سے پہلے انڈونیشیا، ایتھوپیا اور فلپائن اپنے شہریوں کے ملازمت کی غرض سے سعودی عرب کے سفر پر پابندی لگا چکے ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ جب تک ریاض حکومت کی جانب سے ان مہمان کارکنوں کو ا?ن کے بنیادی حقوق کی ضمانت نہیں مل جاتی، یہ پابندی برقرار رہے گی۔سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں سے یوگنڈا کے درجنوں شہریوں کو گرفتار کر کے واپس وطن بھیجا جا چکا ہے جبکہ یوگنڈا کے کچھ شہری حراست کے دوران ہلاک بھی ہو گئے، جیسے کہ فلورا ریٹا نانتیزا، جو دبئی کی ایک جیل میں انتقال کر گئیں۔یوگنڈا کے صدر یوویری موسیوینی حال ہی میں سعودی عرب کے ایک دو روزہ سرکاری دورے سے وطن واپس لوٹے ہیں۔ ان کے اس دورے کے دوران دونوں ملکوں کے باہمی تجارتی تعلقات پر تو بات ہوئی لیکن مہمان کارکنوں کے تحفظ کا کوئی ذکر سننے میں نہیں آیا۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…