بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

فرانسیسی جرید ے چارلی ہیبڈو نے شرانگیزی کی تما م حدیں پار کر لیں

datetime 17  جنوری‬‮  2016 |

پیرس(نیوز ڈیسک)فرانسیسی جریدہ چارلی ہیبڈو کی شرانگیزی سے ترکی کے ساحل پر ہلاک ہونے والے 3 سالہ شامی مہاجر بچہ ایلان کردی بھی محفوظ نہ رہا۔فرانس کے رسالے نے شامی تارک وطن بچے ایلان کر دی کا ایک انتہائی شرمناک خاکہ شائع کیا ہے۔رسالے کے کارٹون میں ایلان کو بڑا ہو کر کر ایک عورت کے پیچھے بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے اور اس کے ساتھ فرانسیسی زبان میں جملہ تحریر ہے کہ ” ایلان کردی بڑا ہو کر جرمنی میں عورتوں پر جنسی حملے کرنے والوں جیسا بنتا”۔جریدے کے کارٹون پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی شدید تنقید کی گئی ہے جب کہ اردن کی ملکہ رانیہ نے بھی چارلی ہیبڈو کے کارٹون کے خلاف بطور احتجاج ایک کارٹون شیئر کیا ہے۔اس کارٹون میں دکھایا گیا ہے کہ ایلان کردی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بڑا ہو کر ڈاکٹر بن گیا ہے۔ملکہ رانیہ نے کارٹون کے ساتھ تحریر کیا ہے کہ “ایلان کردی بڑا ہو کرڈاکٹر، استاد یا محبت کرنے والا والد ہو سکتا تھا”۔ملکہ رانیہ نے انگریزی، عربی کے ساتھ ساتھ فرانسیسی زبان میں اس پر جملہ تحریر کیا ہے۔دوسری جانب ٹوئٹر پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد چارلی ایبڈو کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔کچھ افراد نے ایک ایسا خاکا شیئر کیا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ چارلی ہیبڈو کا ‘قلم’ بھی ایلان کردی کے قتل میں شامل ہے۔العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایلان کردی کے کینیڈا میں مقیم خاندان نے بھی اس کارٹون کی شدید مذمت کی ہے۔یاد رہے کہ چارلی ہیبڈو نامی میگزین کو پہلی مرتبہ اس وقت شہرت ملی جب اس نے ڈنمارک کے روزنامہ جے لینڈز۔پوسٹان میں فروری 2006 میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکے شائع کیے بعد ازاں چارلی ہیبڈو نے 2011 میں ایک بار پھر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی۔فرانسیسی جریدے میں پیغمبر اسلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخانہ خاکے شائع ہونے پر دنیا بھر میں احتجاج سامنے آیا تھا جبکہ اس کے بعد رسالے کے دفتر پر آتش گیر مادے سے حملہ بھی ہوا تھا البتہ اس میں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا تھا۔گزشتہ برس 7 جنوری 2015 کو چارلی ہیبڈو پر دو بھائیوں نے مسلح حملہ کیا تھا جس میں جریدے کا ایڈیٹر، 5 کارٹونسٹ سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے.ابتدائی رپورٹس یہ سامنے آئی تھیں کہ رسالے کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی تصویر شیئر کرنے پر یہ حملہ ہوا ہے تاہم بعد ازاں اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی تھی اور اس کی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علی وسلم کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت ہی بتائی گئی تھی.ان حملوں کے بعد میگزین کو زبردست مالی فوائد حاصل ہوئے اور حکومت کی جانب سے 10 لاکھ یورو ملنے کے علاوہ اس کی اشاعت 60 ہزار کاپیوں سے بڑھ کر ایک دم 30 لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔واضح رہے کہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے کہ چارلی ہیبڈو نے ایلان کی ایسی تصاویر شائع کی ہیں اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ ایلان کی توہین آمیز تصاویر جریدے میں شائع ہوتی رہی ہیں۔خیال رہے کہ ایلان کی ساحل پر پڑی ہوئی لاش کی تصاویر سامنے آنے پر دنیا بھر میں شامی مہاجرین کے لیے آواز اٹھائی گئی جبکہ یورپی ممالک میں ان کو آنے کی اجازت دی گئی۔جرمنی نے سب سے زیادہ مہاجرین کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہا البتہ 2015 کے اختتام پر نئے سال کی تقریبات کے دوران مبینہ طور پر بعض شامی مہاجرین کی جانب سے خواتین سے بدسلوکی کی گئ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…