جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

سالانہ ایک کھرب 32 ارب کا پانی ضائع ہونے کا انکشاف

datetime 11  جنوری‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان میں ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ اربوں روپے مالیت کا پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے، سمندر کے مزید کٹاو¿، کوسٹل بیلٹ کی تباہی اور سمندر برد ہونے سے روکنے کے لیے بڑے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہوگئی ہے۔یہ انکشاف عالمی پینل آف ایکسپرٹ کی پاکستان کے کوسٹل ایریاکے بارے میں وزارت پانی و بجلی کوبھیجی گئی اسٹڈی رپورٹ میں کیاگیا ہے، وزارت پانی و بجلی نے اس رپورٹ پر عملدرآمد کے بجائے دبا دیا ہے، ارسا کے حکام کے مطابق پاکستان سے 400 ٹن ملین سلٹ سمندرمیں جاتی تھی اب 126 ملین ٹن سلٹ جا رہی ہے اس طرح سمندر میں سالانہ 274 ملین ٹن سلٹ کم گرنا شروع ہوگئی ہے اور جب انڈس ڈیلٹا کو مقررہ مقدارمیں مسلسل میٹھا پانی میسرنہیں ہو گا توسمندر کے مزید کٹاو¿، کوسٹل بیلٹ کی تباہی کے مسائل سامنے آئیں گے۔ایک ملین ایکڑ فٹ پانی سے 40 لاکھ ایکڑرقبے کوسیراب کیا جا سکتا ہے۔ ایک ملین ایکڑ فٹ پانی کی قیمت 60 ارب روپے ہے۔ پاکستان میں ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے ایک کھرب 32 ارب روپے سالانہ مالیت کا پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے، دنیا میں 100 ملین ایکڑ فٹ میں سے 40 ملین ایکڑ فٹ اسٹور کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں ڈیمز بہت کم ہیں جب تک بڑے ڈیم قائم نہیں کیے جاتے یہ مسائل حل نہیں ہوںگے۔اسٹڈی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سمندر کے کٹاو¿ سے بچانے اورکوسٹل ایریا کو تباہی سے بچانے کے لیے سالانہ 8.6ملین ایکڑ فٹ پانی کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ مسلسل سمندر میںگرنا چاہیے،5ملین ایکڑ فٹ مون سون کے موسم میں اور 3.6 ملین ایکڑ فٹ 365دنوں میں ملنا ضروری ہے، سارا سال 5ہزارکیوسک فی دن پانی مہیا کرنے کے لیے نئے ڈیمزبنانے ہونگے،سمندر میں 30ملین ایکڑفٹ گر کر ضائع ہو رہا ہے، اگرسمندر کی ضرورت کے مطابق 8.6ملین ایکڑ فراہم کردیا جائے اور باقی 22ملین ایکڑ فٹ کو ڈیمز میں اسٹور کیا جا سکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…