جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پٹھان کوٹ ائربیس حملہ ،حافظ سعید میں آگئے

datetime 6  جنوری‬‮  2016 |

لاہور(نیوزڈیسک )ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابو الخیر محمد زبیر کی زیر صدارت ایک وفد نے امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید سے ملاقا ت کی ہے جس میں پاک بھارت تعلقات، مدارس پر چھاپوں و علماءکرام کی گرفتاریوں اور ممتاز قادری کی سزاسے متعلق موضوعات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اس موقع پرتحفظ نظریہ پاکستان کے حوالہ سے جاری ملک گیر تحریک مزید تیز کرنے اور جلد مذہبی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس بلانے پر بھی اتفاق رائے کا اظہا رکیا گیا۔ مرکز القادسیہ چوبرجی میں حافظ محمد سعید سے ملاقات کرنے والے وفد میں جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ اور ملی یکجہتی کونسل پنجاب کے جنرل سیکرٹری سردار محمد خاں لغاری شامل تھے جبکہ جماعةالدعوة سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، قاری محمد یعقوب شیخ اور مولانا عبدالوحید شاہ بھی موجود تھے۔ ملی یکجہتی کونسل کے صدر صاحبزادہ ابو الخیر زبیر،امیر جماعةالدعوة حافظ محمد سعیداور دیگر رہنماﺅں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے دینی و سیاسی قیادت کا ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو نا بہت ضروری ہے۔ پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ملک ہے۔ قیام پاکستان کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت وطن عزیز پاکستان کے وجود پرمختلف اطراف سے حملے کئے جارہے ہیں اور یہاں سیکولرازم کو پروان چڑھانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ہمیں متحد ہو کر نظریہ پاکستان کے تحفظ کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ملی یکجہتی کونسل کے قائدین کا کہنا تھا کہ مساجدو مدارس اور منبر و محراب کے حوالہ سے ناروا حکمت عملی روا رکھی گئی ہے۔ مدار س پر چھاپے اور علماءکرام کی گرفتاریاں بیرونی قوتوں کو خوش کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔ ممتاز قادری کی سزا شرعی طور پر درست نہیںہے۔اگر مذہبی جماعتیں ملکر آواز بلند کریں تو سزائے موت ختم ہو سکتی ہے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اسے سیکولر سٹیٹ بنانے کی بجائے اسلامک سٹیٹ بنایا جائے۔ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے قائدین کاکہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ وطن عزیز پاکستان کیخلاف سازشوںاور الزام تراشیوں میں مصروف رہتا ہے۔ مودی سرکار کی جانب سے پاکستان سے مذاکرات کی باتیں محض دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے ہیں۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ بھارت کے کسی دھوکہ میں نہ آئیں اور ملکی و قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں ترتیب دی جائیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…