منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

سفارتخانے پر حملے کے بعد کشیدگی،ایران کا جواب اورسعودی عرب کا ردعمل سامنے آگیا

datetime 6  جنوری‬‮  2016 |

اقوام متحدہ (نیوزڈیسک)سعودی عرب نے ایران سے تمام سفارتی عمارتوں کا تحفظ یقینی بنانے اور دوسرے ملکوںکے اندرونی معاملات سے مداخلت سے باز رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو اینے عمل اور بیانات کے ذریعے اچھے ہمسائے کا کردار ادا کرنا چاہئے، ہمیں تہران کی معذرت نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میں عدم مداخلت کے اصول پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد چاہئے۔ نیویارک میں سیکیورٹی کونسل ہیڈکوارٹرز میں منگل کو علی الصبح نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبداللہ المعلمی نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ تمام سفارتی عمارتوں کا تحفظ یقینی بنائے اور دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔ ایران کو اینے عمل اور بیانات کے ذریعے اچھے ہمسائے کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ہمیں تہران کی معذرت نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میں عدم مداخلت کے اصول پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد چاہئے۔اس سے قبل ایران نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے تہران میں سعودی سفارتخانے پر حملے کے حوالے سے اظہار افسوس کرتے ہوئے مستقبل میں ایسے کسی بھی واقعے کو روکنے کا وعدہ کیا ہے۔خط میں کہا گیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو ان حالیہ واقعات پر افسوس ہے اور وہ اس کے ذمہ داران کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ خط میں مزید کہا گیا کہ اسلامی جمہویہ ایران مستقبل میں کسی ایسے واقعہ کی روک تھام کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔سعودی عرب نے اتوار کے روز باضابطہ طور پر ایران کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات ختم کردئیے تھے۔ اس کے بعد بحرین نے بھی ایران سے تعلقات توڑنے کا اعلان کردیا تھا۔ سعودی عرب نے بعد میں اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات بھی توڑ دے گا جس میں فلائٹس اور سعودی شہریوں کے ایران جانے پر پابندی شامل ہے۔ریاض کی جانب سے یہ قدم تہران اورمشہد میں سعودی سفارتی مشن کی عمارات پر حملوں کے بعد سامنے آیا۔ سعودی حکام نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مظاہرین کو روکنے کے لئے مناسب اقدامات نہیں کئے تھے مگر ایران نے اپنے خط میں کہا تھا کہ تہران نے قونصل خانے کی سیکیورٹی کے لئے ضروری اقدامات اٹھائے تھے اور موقع پر موجود سیکیورٹی فورسز کی تعداد میں بھی اضافہ کیا تھا۔خط میں بتایا گیا کہ سعودی سفارتخانے کے باہر تقریبا 8000 پر امن مظاہرین اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے تھے کہ رات کو 11 بجے اچانک کچھ لوگ بے قابو ہوگئے۔ خط میں مزید بتایا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتہائی کوشش کے باوجود کچھ لوگ سفارتخانے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے عمارت کو نقصان پہنچایا۔خط میں مزید بتایا گیا کہ اس حملے میں ملوث 40 سے زائد افراد کی شناخت کرلی گئی تھی اور اب انہیں عدالتی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف ضروری کارروائی ہوسکے۔خط کے مطابق ان مظاہرین کے دیگر ساتھیوں کی تلاش کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…