منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

پٹھان کوٹ کے دکانداروں نے بھارت حکومت کے منہ پر طمانچہ مار دیا

datetime 4  جنوری‬‮  2016 |

پٹھان کوٹ(نیوز ڈیسک)پنجاب کے پٹھان کوٹ ائیر بیس کے قریب دکان چلانے والے اشوک مہتا کو رات کو پونے تین بجے ان کے دوست نے فون کرکے بتایا تھا کہ آئرفورس بیس کے اندر فائرنگ ہوئی ہے.مگر انہوں نے اس پر یقین نہیں کیا، لیکن بعد میں ہوئے آپریشن کے دوران سرکاری حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چار حملہ آور مارے گئے۔اشوک مہتا نے پٹھان کوٹ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار نتن شریواستو کو بتایا کہ انہوں نے اس دن کیا دیکھا۔’جمعے کی شام سے ہی سکیورٹی فورسز نے ایئر بیس کی دیوار سے منسلک دکانوں کو بند کروانا شروع کر دیا تھا۔ آہستہ آہستہ دوسرے بازار بھی بند ہونے لگے۔دکاندار دکانیں بند کر کے اپنے گھروں کو چلے گئے اور آٹھ بجے کے بعد چاروں طرف سناٹا چھا گیا تھا۔ رات کو پونے تین بجے میرے ایک دوست کا فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ ا?ئرفورس بیس کے اندر فائرنگ ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔تین بجے اس نے پھر فون کر کے فائرنگ کی آواز سنائی۔ میں نے کہا کہ اندھیرا چھٹنے کے بعد میں وہاں جاؤں گا۔پانچ بجے جب میں اس چوک پر پہنچا تو یہاں کا منظر بالکل بدلا ہوا تھا اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ اور میڈیا وہاں پہنچ چکا تھا۔ساڑھے سات بجے تک صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔ نیچے زبردست فائرنگ ہو رہی تھی اور آسمان میں ہیلی کاپٹر منڈلا رہے تھے۔ ہیلی کاپٹر سے بھی فائرنگ ہو رہی تھی۔تھوڑی دیر میں ہمیں پتہ چلا کہ تین حملہ آور مارے گئے ہیں۔ ٹھیک نو بجے چوتھے حملہ آور کے بھی مارے جانے کی اطلاع آ گئی۔ سنیچر کو زیادہ تر دکانیں دن بھر بند رہیں اور صرف میڈیا کے موبائل چارج کرنے کے لیے کچھ دکانیں کْھلیں۔ میں نے بھی اسی مقصد سے کچھ دیر اپنی دکان کھولی۔آج (اتوار کو) ہم نے دکانیں کھولی ہیں لیکن صورت حال ویسی ہی ہے۔ صبح پونے نو بجے میں نے پھر فائرنگ کی آواز سنی اور اب بھی ہیلی کاپٹر فضا میں موجود ہیں اور علاقے کے اوپر چکر لگا رہے ہیں۔میں 26 سال سے یہاں دکان چلا رہا ہوں لیکن اتنی سکیورٹی میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔ اگر انتظامیہ پہلے سے الرٹ ہوتی تو آج صورت حال مختلف ہوتی۔دینانگر حملے کے بعد نگرانی بڑھانے کی ضرورت تھی۔ایس پی کی گاڑی اغوا ہونے کی خبر آگ کی طرح پھیلی تھی۔ تب بھی اگر سیکورٹی بڑھا دی جاتی تو آج یہ صورت حال نہ ہوتی۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…