جمعرات‬‮ ، 21 مئی‬‮‬‮ 2026 

پی ٹی آئی ، (ن) میں شامل نہیں ہو رہی ،پارٹی کے اندر رہ کر اصلاح کیلئے کام کر رہی ہوں‘ فردوس عاشق اعوان

datetime 3  جنوری‬‮  2016 |

پروفیشن کے لحاظ سے ڈاکٹرہو ں ،مردہ معاشرے کی سرجری کرنے کیلئے ہی سیاست میں آئی ہوں ‘ سابق وفاقی وزیر کی گفتگو
لاہور(نیو زڈیسک)پیپلز پارٹی کی رہنماو سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کی باتیں صرف افواہیں ہیں ،وزارت اطلاعات سے استعفیٰ اس لیے دیا تھا کیونکہ مجھے یہ وزارت صرف لیبل کی حد تک دی گئی تھی اس میں اختیار کچھ نہیں تھا ، آصف علی زرداری نے بہت دانشمندانہ طریقے سے حکومت چلائی لیکن اس وقت ان کو چاہیے کہ پارٹی کو متحد کرنے کیلئے کام کریں ۔ ایک انٹر ویو میںانہوں نے کہا کہ ہم سیاستدان وہ بدنصیب لو گ ہیں جن سے نہ گھر والے راضی ہوتے ہیں اور نہ ہی باہر والے ،گھر والوں کو بھی ہم سے شکایات رہتی ہے کہ ہم انہیں وقت نہیں دیتے اور باہر کے لوگوں کو بھی یہی شکایت رہتی ہے ۔ میں پروفیشن کے لحاظ سے ڈاکٹرہو ں اور اس مردہ معاشرے کی سرجری کرنے کیلئے ہی سیاست میں آئی ہوں ،میرے پاس پانچ وزارتیں تھیں اور ان میں سٹیٹس کو کو توڑنا چاہتی تھی کیونکہ سرکاری اداروں میں بیوروکریسی کی کام کرنے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے جسے میں تیز کرنا چاہتی تھی لیکن وہ لوگ ایسا چکر چلاتے ہیں کہ غلطی کی نشاندہی کرنیوالے کو ہی ہائی جیک کر لیتے ہیں اور انسان کو لگتا ہے کہ میں ہی غلط ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں سب افواہیں ہیں کہ میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے جا رہی ہوں ، کچھ حلقے کہہ رہے ہیں کہ میں پاکستان مسلم لیگ میں شامل ہو نے جا رہی ہوں لیکن ابھی تک ایسا کچھ نہیں ۔ میں پارٹی کے اندر بیٹھ کر پارٹی کی اصلاح کیلئے کام کر رہی ہوں لیکن اگر پارٹی نہیں بدلے گی تو میری کو شش ہو گی کہ پھر میں ہی خود کو بدل لوں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے وزارت اطلاعات سے استعفیٰ اس لیے دیا تھا کیونکہ مجھے یہ وزارت صرف لیبل کی حد تک دی گئی تھی ،یہ وزارت پانچ جگہوں سے چلائی جا رہی تھی جس میں صدر ہاﺅس، وزیراعظم ہاﺅس ، پارٹی سیکرٹریٹ ،فریال بی بی اور سابق وزیراطلاعات کا گھر بھی شامل تھا جب اتنے سارے لوگ موجود تھے تو مجھے وزیر بنانے کی کیا ضرورت تھی ، مجھے تمام معاملات میں مسلسل بائی پاس کیا جا رہا تھااس لیے میں نے استعفیٰ دیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…