کراچی(نیوزڈیسک) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے 2008کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان میں ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس پر ایک مفصل رپورٹ جاری کی ہے ۔آئی پی آر کی رپورٹ کے مطابق ایچ ڈی آئی لیول ایک ایسا طریقہ کار ہے جس کے مطابق نیشنل فنانس کمیشن اپنے وسائل تفویض کرتا ہے ۔اٹھارویں ترمیم کے بعد اور پچھلے این ایف سی ایوارڈ میں اضافی وسائل اور صوبوں کی ہیو مین ڈیویلپمنٹ کے سلسلے میں مکمل خود مختاری کے بعد صوبائی ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس کا تخمینہ لگانا ایک انتہائی اہم اور نازک کام ہے ۔جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں تخمینہ لگانا صوبائی ترقی اور ترقیاتی کاموں کےلئے انتہائی اہم ہے ۔آئی پی آر رپورٹ کے مطابق ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس تین مساوی اجزا ءپر مشتمل ہے جس میں صحت ، تعلیم اور آمدن شامل ہےں ۔ تھنک ٹینک آئی پی آر نے ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس کا تخمینہ لگانے کےلئے وہی طریقہ کار اپنا یا ہے جو کہ یو این ڈی پی کا طریقہ کار ہے لہذا یہ اس طریقہ کار سے ہی ممکن ہو سکا ہے کہ صوبائی ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس کے تخمینے کو یو این ڈی پی کی گولوبل رینکنگ کے سلسلے میں تقابلی جائزہ کےلئے پیش کیا جا سکے ۔لہذا اس طریقہ کار کے مطابق آئی پی آر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس کے مطابق صوبہ سندھ کوا س سلسلے میں پنجاب ،کے پی کے اور بلوچستان پر فوقیت حاصل ہے جبکہ مجموعی طور پر پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو کہ ہیومن ڈیویلپمنٹ کے سلسلے میں سب سے نچلی سطح پر ہیں اگرپاکستان کے مجموعی ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس کو صوبائی سطح پر الگ الگ کر کے دیکھا جائے تو صوبہ سندھ میں درمیانے درجے کی جبکہ باقی تینو ں صوبوں میں کم درجے کی ہیومن ڈیویلپمنٹ ہوئی ہے رپورٹ کے مطابق اگر صوبائی ایچ ڈی آئی کا رحجان دیکھا جائے تو سندھ میں ہیومن ڈیویلپمنٹ کی رفتار2001تا 2014 سست روی کا شکار رہی ہے جبکہ بلوچستان اور کے پی کے میں نسبتا ہیومن ڈیویلپمنٹ کی رفتار تیز تھی اور پنجاب میں درمیانے درجے کی ہیومن ڈیویلپمنٹ ہوئی ۔رپورٹ کے مطابق سندھ میں ایچ ڈی آئی کی گروتھ پر امن و امان کی صورتحال اور ناقص طرز حکومت اثر انداز ہوئے ہیں۔آئی پی آر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان بین الاقوامی ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس میں اپنے لئے کوئی اچھا مقام نہیں بنا سکا خصوصی طور پر فی کس آمدنی کو دیکھا جائے تو پاکستان کا دنیا میں 133واں جبکہ ایچ ڈی آئی کے مطابق 147واں نمبر ہے لہذا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان میں ہیومن ڈیویلپمنٹ کے سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا ۔آئی پی آر کی رپورٹ کے مطابق صوبائی ایچ ڈی گروتھ کے سلسلے میں ایک اور بات ثابت ہوتی ہے کہ 2001تا 2008تک صوبائی ڈیویلپمنٹ انڈیکس میں تیزی دیکھی گئی تھی جبکہ 2008سے 2014تک یہ سست روی کا شکار رہا جبکہ اس دوران صوبوں نے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے خود مختاری بھی حاصل کر لی تھی اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے ان کو وسائل بھی زیادہ مل رہے ہیں ۔
پاکستان انسانی ترقی و بہبود کے لحاظ سے کہاں کھڑا ہے؟،آئی پی آر نے 8سال بعدرپورٹ جاری کردی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)
-
سعودی عرب کا پاکستانی شہریت ترک کرنے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
اسلام آباد میں 258 چینی شہری گرفتار
-
بارشوں کے نئے اسپیل کی پیشگوئی، گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
منشیات کیس: عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کر دیا
-
سابق کرکٹر عاقب جاوید کی بیٹی کی برطانیہ میں شادی، تصاویر وائرل
-
حکومت کاپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
معروف ٹک ٹاکر وکیل میاں بلال عبداللہ گرفتار
-
ربیع الاول کے چاند سے متعلق اعلان ہوگیا
-
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں کمی
-
رخصتی گھر سے کریں گے، والد نے پسند کی شادی کرنے والی بیٹی کو گھر لے جا کر مار دیا
-
پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس میں مزید اہم انکشافات سامنے آگئے
-
جشنِ میلاد النبی ﷺ کے موقع پر تین روزہ تعطیلات کا اعلان
-
سرکاری ملازمین کا جی پی فنڈ کتنا ہوگا؟ نوٹیفکیشن جاری



















































