منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

نئی دہلی ،آلودگی پر قابو پانے کیلئے حکومت کا انوکھا اقدام

datetime 1  جنوری‬‮  2016 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک) بھارتی دارالحکومت دہلی میں حکام کی جانب سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کی ایک مہم کے تحت نجی گاڑیوں کے استعمال پر مخصوص نوعیت کی پابندیوں کا اطلاق کر دیا گیا ہے۔ ان پابندیوں کے تحت شہر میں نجی گاڑیوں کو طاق اور جفت نمبروں والی لائسنس پلیٹ کے حساب سے ایک دن چھوڑ کر سڑک پر آنے کی اجازت ہوگی۔ یہ مہم جمعہ سے آزمائشی بنیادوں پر شروع کی گئی ہے اور نئی پابندیوں کا اطلاق پیر سے ہفتے تک صبح آٹھ بجے سے رات آٹھ بجے تک ہوگا۔ تاہم ہنگامی استعمال کی گاڑیاں مثلاً ایمبولینس، پولیس کی گاڑیاں، آگ بجھانے والی گاڑیاں اور ٹیکسیاں اس پابندی سے مستثنٰی ہوں گی۔ رواں سال موسم سرما میں دہلی میں فضائی آلودگی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی ہے۔ شہر میں آلودگی کی سطح بین الاقوامی ادارہ صحت کی طے شدہ حد سے دس گنا زیادہ ہونے کے بعد عدالت کی جانب سے آلودگی سے نمٹنے کے لیے دیے جانے والے حکم کے بعد مقامی حکام کی جانب سے حالیہ اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پابندیوں پر عملدرآمد آسان بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے کئی اقسام کی چھوٹ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ خواتین ڈرائیورز کو تمام ایّام میں گاڑی چلانے کی اجازت ہوگی تاہم ان کے ساتھ گاڑی میں صرف دیگر خواتین اور 12 سال سے کم عمر کے بچوں کو سواری کی اجازت ہوگی۔ وہ گاڑیاں جن میں معذورافراد سفر کر رہے ہوں انھیں بھی تمام ایام میں سڑکوں پر آنے کی اجازت ہوگی۔ موٹر سائیکلوں کے ساتھ ساتھ ان گاڑیوں کو بھی تمام ایّام میں سڑکوں پر آنے کی اجازت ہوگی جو بطور ایندھن قدرتی گیس (سی این جی) کا استعمال کر رہی ہوں گی۔ ہنگامی طبی امداد کے لیے مریضوں کو ہسپتال لے جانے کی بھی اجازت ہوگی۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر پڑنے والے ممکنہ اضافی دباو¿ کے پیش نظر حکومت کی جانب سے رہائشی علاقوں سے شٹل سروس شروع کرنے کے لیے تین ہزار نجی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ رواں سال 15 جنوری تک جاری رہنے والی مشقی بنیادوں پر شروع ہونے والی مہم کے دوران سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے تاکہ سکول بسوں کو بطور عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کیا جا سکے۔ دہلی کے وزیر ٹرانسپورٹ گوپال راج نے اس مہم کے بارے میں فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ سب سے بڑا اور اہم مرحلہ یہ ہے کہ لوگوں کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ آلودگی کے خلاف لڑائی ان لوگوں کے لیے ہی شروع کی گئی ہے، ان کی صحت کے لیے، ان کی بھلائی کے لیے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ قابل عمل نہیں ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…