جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

ملکی تاریخ میں ایک اور خونی سال قرار، دہشتگردی کے1113 واقعات ریکارڈ

datetime 31  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)دو ہزار پندرہ کو ملکی تاریخ میں ایک اور خونی سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا ،دوہزار پندرہ کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے ایک ہزار ایک سو تیرہ واقعات ہوئے جن میں پنجاب کے وزیر داخلہ شجاع خانزادہ سمیت سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوئے جبکہ چھ سو سنتیس دہشتگرد مارے گئے، دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات فاٹا میں ہوئے،وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار پندرہ میں دہشتگردی کے سب سے زیادہ واقعات فاٹا میں ہوئے جو چھ سو ستر ہیں،‘ خیبر پختونخوا میں ایک سو ترانوے ‘ بلوچستان میں ایک سو اکانوے، سندھ میں اٹھائیس، پنجاب میں چوبیس، گلگت بلتستان میں چھ اور اسلام آباد میں ایک واقعہ ہوا،آزاد کشمیر پر امن خطہ ثابت ہوا جہاں دہشتگردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے چھ سو سنتیس دہشتگردوں کو ہلاک کیا، پنجاب میں 55‘ سندھ میں 36‘ خیبر پختونخوا میں 73‘ بلوچستان میں 98‘ فاٹا میں 373‘ اسلام آباد میں ایک اور گلگت بلتستان میں ایک ہے، پنجاب میں دو‘ سندھ میں 52‘ خیبر پختونخوا میں 301‘ بلوچستان میں 267‘ فاٹا میں 88 دہشتگرد گرفتار کئے گئے،دہشتگرد ی کے اہم واقعات میں ، تیس جنوری کو شکار پور امام بارگاہ میں خودکش دھماکے میں 55 افراد جاں بحق ہوئے ،،،تیرہ فروری کوحیات آباد پشاور میں مسجد و امام بارگاہ امامیہ میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکا ہوا جس سے،21 افراد شہید، 70 سے زائد زخمی۔پندرہ مارچ کو لاہورمیں یوحناآباد کے دوگرجا گھروں پرخودکش حملے،،پولیس اہلکارسمیت 17 افراد جان سیگئے، ستر سے زائد زخمی، مشتعل افراد نے دو لوگوں محمد نعیم اور بابرنعمان کو تشدد کے بعد زندہ جلادیا، ملک کے سولہ اگست کو اٹک میں،وزیر داخلہ پنجاب شجاع خانزادہ کے حجرے میں خود کش حملہ ہوا جس میں شجاع خانزادہ اور ڈی ایس پی شوکت شاہ دیگر اٹھارہ افراد بھی شہید ہوئے،،،تئیس افراد زخمی ہوئے،انیس، اکتوبر کوکوئٹہ سریاب روڈ پر بس میں ہونیوالے دھماکے میں گیارہ افراد جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے،چودہ اکتوبر، تونسہ شریف میں نون لیگ کے رکن قومی اسمبلی سردارامجد فاروق کھوسہ کے کیمپ آفس پرخود کش حملہ ہوا جس میں آٹھ افراد جاں بحق اور پندرہ زخمی ہوئے ،بائیس اکتوبر کو نصیر آباد میں امام بارگاہ کے قریب دھماکہ ہوا جس میں، بارہ افراد زخمی ہوئے،،تئیس اکتوبر کو جیکب، آباد عزاداری کے جلوس کی گزرگاہ پر خود کش حملے میں تئیس افراد جاں بحق ہوئے ،



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…