منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

برسلز میں سالِ نو کی تقریبات منسوخ کر دی گئیں

datetime 31  دسمبر‬‮  2015 |

برسلز(نیوز ڈیسک)یورپی ملک بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے سبب سالِ نو کے موقع پر آتش بازی اور جشن کی تقریبات منسوخ کر دی گئی ہیں۔ادھر نومبر میں دہشت گردوں کے حملوں کا نشانہ بننے والے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں بھی نئے سال کا استقبالیہ آتش بازی کا مظاہرہ نہیں ہوگا۔بلیجیئم کے وزیراعظم چارلس میچل نے بدھ کو کہا کہ تقریبات منسوخ کرنے کا فیصلہ ’اہم معلومات‘ کی بنیاد پر کیا گیا۔برسلز کے میئر نے بیلجیئم کے نشریاتی ادارے آر ٹی بی ایف کو بتایا کہ ’وزیر داخلہ کے ساتھ مل کر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جمعرات کی شام جشن نہ منایا جائے۔‘میئر نے بتایا کہ گذشتہ برس برسلز میں سالِ نو کی تقریبات کے دوران ایک لاکھ افراد شریک ہوئے تھے اور ’ان حالات میں ہم ہر کسی کی تلاشی نہیں لے سکتے۔‘اس سے قبل منگل کو بیلجیئم کی پولیس نے سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر حملہ کی منصوبہ بندی کرنے والے دو مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تھا۔نومبر میں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں کے بعد سے بیلجیئم میں سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔حالیہ دنوں میں بیلجیئم کی پولیس نے کئی علاقوں میں چھاپے مارے ہیں جن کے دوران فوجی یونیفام، کمپیوٹر سمیت جدید آلات برآمد کیے گئے۔نومبر میں پیرس جیسے حملے کے خطرے کے پیش نظر برسلز کو چار دنوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا اور شہر میں تعلیمی عمل اور میٹرو ریل سروس معطل رہی تھی۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پیرس بھی میں نئے سال کی استقبالیہ تقریبات کو محدود کر دیا گیا ہے اور نئے سال کے آغاز کے موقع پر اس مرتبہ آتش بازی کا روایتی مظاہرہ بھی نہیں ہوگا۔اس کی جگہ محرابِ فتح پر نئے سال کے آغاز سے پانچ منٹ قبل ایک ویڈیو پرفارمنس ہوگی جسے شانزے لیزے پر نصب سکرینوں پر بھی نشر کیا جائے گا۔ماضی میں سالِ نو کی تقریب میں شرکت کے لیے چھ لاکھ سے زیادہ فرانسیسی اور غیر ملکی اس مقام پر جمع ہوتے رہے ہیں لیکن اس برس اس مشہور شاہراہ کو تین کی جگہ صرف ایک گھنٹے کے لیے ٹریفک کے لیے بند کیا جائے گا۔فرانس میں سالِ نو کی تقریبات کے موقع پر 60 ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔پیرس کے میئر این ہیڈالگو کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس نئے سال کو دھوم دھڑکے کے بغیر ایک ایسے انداز میں منانے کا فیصلہ کیا ہے جو ہمارے جذبات کا عکاس ہو۔‘انھوں نے کہا کہ یہ ’پروقار تقریب‘ دنیا کو پیغام دے گی کہ پیرس اپنے طرز زندگی اور مل جل کر رہنے کی خاصیت پر فخر کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…