اسلام آباد(نیوزڈیسک) پاکستانی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دب گئی۔وفاقی حکومت نے ٹیکسوں سے جو کمایا، قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ کر دیا۔ وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی قرضوں کا حجم 181 کھرب روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 161 کھرب روپے تھی۔اقتصادی ماہرین کے مطابق کشکول اب دیگ میں بدل گیاہے۔ ہر سال سارا ترقیاتی بجٹ قرض پر ہی بنایا جاتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال میں بھی 13 کھرب روپے کے لگ بھگ رقم قرض اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہو گی اور مستقبل میں اس خرچ سے جان چھوٹنے والی نہیں۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پاکستان اسی رفتار سے قرض لیتا رہا تو 2018 تک پاکستان پر بیرونی قرضے 65 ارب ڈالر سے بڑھ کر 90 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے بعد سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بڑی خوشخبری
-
اواتار مائونٹین
-
خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کتنی سستی ہوسکتی ہیں؟
-
یکم جولائی کے بعد پاسپورٹ دفاتر جانے والوں کے لیے بڑا اعلان
-
سونے کی قیمت میں بڑی کمی
-
عوام کو جلد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی خوشخبری ملنے والی ہے، بڑا اعلان
-
دورانِ شاپنگ ماں بچوں کو گاڑی میں بھول گئی، شدید گرمی سے 2 کمسن بہن بھائی ہلاک
-
عالمی منڈی میں سونے کی قیمت مزید گر گئی، سات ماہ کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی
-
بھارتی شہری کوایئرلائن کی میزبان سے چھیڑچھاڑ مہنگی پڑ گئی
-
جون میں سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں مزید کمی
-
سرگودھا میں شہریوں نے کمسن بچی کے قاتل کو قبرستانوں میں دفنانے کی اجازت نہ دی
-
بجلی کے بل نے شہری کا راز فاش کر دیا، فلیٹ میں 300 اژدہے پالنے پر گرفتار
-
سلمان خان کی24 سال قبل دیا مرزا سے کی گئی انوکھی پیشگوئی



















































