اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوہ پر پابندی کی اطلاعات پر امریکہ خوش

datetime 16  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔امریکہ نے ان اطلاعات کا خیرمقدم کیا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوہ سمیت متعدد شدت پسند تنظیموں پر پابندی لگانے پر غور کر رہا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے اسے پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے سلسلے میں اہم قدم قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں دس سے زیادہ تنظیموں کی ایک فہرست زیرِ گردش ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ حکومتِ پاکستان ان پر پابندی عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔تاہم حکومتِ پاکستان کی جانب سے سرکاری طور پر اس سلسلے میں کوئی احکامات یا بیانات جاری نہیں کیے گئے ہیں۔اس فہرست میں حقانی نیٹ ورک اور جماعت الدعوہکے علاوہ اس تنظیم کے فلاحی بازو فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے نام بھی شامل ہیں۔جمعرات کو محکمہ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران اس بارے میں ایک سوال پر ترجمان میری ہارف نے ان خبروں کا خیرمقدم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس بارے میں باخبر ہیں: ’ہم ان اطلاعات کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور دس یا گیارہ ایسی تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا ارادہ رکھتی ہے جو پرتشدد کارروائیوں اور انتہاپسندی میں ملوث ہیں۔‘ہم ان اطلاعات کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان حقانی نیٹ ورک اور دس یا گیارہ ایسی تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کا ارادہ رکھتی ہے جو پرتشدد کارروائیوں اور انتہاپسندی میں ملوث ہیں۔
میری ہارف
میری ہارف نے کہا کہ ’یہ پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم قدم ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک کی سکیورٹی کے معاملات میں شراکت پر بھی بات ہوئی اور امریکہ اس شراکت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ماضی میں امریکی ایڈمرل مائیک مولن کی جانب سے حقانی نیٹ ورک کو پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کا بازو قرار دیے جانے کے بارے میں سوال پر محکم? خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے معاملات پر پاکستان اور امریکہ کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستانی حکومت پر واضح کر چکا ہے کہ انھیں خطرہ بننے والے تمام دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائی کرنا ہوگی۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس بارے میں بات چیت ہوتی رہتی ہے لیکن یہ (حقانی نیٹ ورک پر پابندی) ایک بہت اہم قدم ہوگا۔پابندی کے حوالے سے ابھی تک وفاقی وزیر داخلہ یا سیکریٹری کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی مراسلہ جاری ہوا ہے۔ پہلے جب امریکہ نے جماعت الدعو? پر پابندی عائد کی تھی تو حکومت پاکستان نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ امریکی پابندیوں کا پاکستان میں اطلاق نہیں ہوتا اور حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ اب شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں میں کسی بھی سطح پر اچھے اور برے طالبان کی کوئی تمیز روا نہیں رکھی جائے گی۔ اور جب تک ایک بھی دہشت گرد باقی ہے یہ جنگ جاری رہے گی۔اس حملے میں 134 طلبا سمیت 142 افراد مارے گئے تھے اور اس حملے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک نئے عزم کے ساتھ شروع ہوئی ہے۔
ادھر جماعت الدعوہنے حکومتِ پاکستان کی جانب سے تنظیم پر پابندی عائد کیے جانے کی اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔
تنظیم کے ترجمان یحییٰ مجاہد نے بی بی سی اردو کے ریاض سہیل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پابندی کے حوالے سے ابھی تک وفاقی وزیر داخلہ یا سیکریٹری کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی کوئی مراسلہ جاری ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے جب امریکہ نے جماعت الدعوہ پر پابندی عائد کی تھی تو حکومت پاکستان نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ امریکی پابندیوں کا پاکستان میں اطلاق نہیں ہوتا اور حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…