منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملالہ کی کتاب جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کر لی گئی

datetime 14  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ‘میں ملالہ ہوں’ (آئی ایم ملالہ) کو جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کرلیا گیا ہے۔جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ملالہ یوسف زئی کی کتاب ‘میں ملالہ ہوں’ نے پوری دنیا میں پڑھنے والوں کو متاثر کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جارج واشنگٹن ویمن لیڈرشپ پروگرام نے اسے اپنے سمر ریڈنگ سیریز سمپوزیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جارج واشنگٹن ویمنز انسٹیٹیوٹ نے ملالہ فنڈ کے اشتراک سیملالہ کی یادداشتوں کو مزید وسعت دینے کے لیے ہائی اسکولوں، کالجوں اور یونورسٹیوں کے طلباء4 کے لیے ایک گائیڈ بھی ترتیب دی ہے، جس میں خواتین اور لڑکیوں کے تعلیم کے حق سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔گائیڈ کو ترتیب دینے کے لیے گلوبل ویمن انسٹیٹیوٹ نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی فیکلٹی سے بین الاقوامی معاملات، میڈیا اسٹڈیز، زبان و ثقافت، مذاہب، تاریخ، ویمن اسٹڈیز، لیڈر شپ اسٹڈیز اور تعلیم سے متعلق ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔

یاد رہے کہ اسکول وین میں سوارملالہ یوسفزئی پراکتوبر 2012 میں وادی سوات میں مینگورہ کے مقام پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملہ کیا تھا تاہم خوش قسمتی سے وہ اس حادثے میں محفوظ رہی تھیں۔

طالبان کے حملے سے قبل ملالہ کو عالمی سطح پر اْس وقت شہرت ملی جب انہوں نے اس وقت طالبان کے زیرِ قبضہ ضلع سوات کے حالات پر ایک برطانوی خبررساں ادارے بی بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر ‘گل مکئی’ کے نام سے ایک ڈائری تحریر کی تھی۔

ملالہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سرگرم عمل ہیں اور انھیں بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے پر گذشتہ برس ہندوستان کے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طورامن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…