اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

ملالہ کی کتاب جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کر لی گئی

datetime 14  جنوری‬‮  2015 |

واشنگٹن۔۔۔۔نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسف زئی کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ‘میں ملالہ ہوں’ (آئی ایم ملالہ) کو جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کرلیا گیا ہے۔جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق ملالہ یوسف زئی کی کتاب ‘میں ملالہ ہوں’ نے پوری دنیا میں پڑھنے والوں کو متاثر کیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ جارج واشنگٹن ویمن لیڈرشپ پروگرام نے اسے اپنے سمر ریڈنگ سیریز سمپوزیم میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ جارج واشنگٹن ویمنز انسٹیٹیوٹ نے ملالہ فنڈ کے اشتراک سیملالہ کی یادداشتوں کو مزید وسعت دینے کے لیے ہائی اسکولوں، کالجوں اور یونورسٹیوں کے طلباء4 کے لیے ایک گائیڈ بھی ترتیب دی ہے، جس میں خواتین اور لڑکیوں کے تعلیم کے حق سے متعلق آگاہی فراہم کی جائے گی۔گائیڈ کو ترتیب دینے کے لیے گلوبل ویمن انسٹیٹیوٹ نے جارج واشنگٹن یونیورسٹی کی فیکلٹی سے بین الاقوامی معاملات، میڈیا اسٹڈیز، زبان و ثقافت، مذاہب، تاریخ، ویمن اسٹڈیز، لیڈر شپ اسٹڈیز اور تعلیم سے متعلق ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی۔

یاد رہے کہ اسکول وین میں سوارملالہ یوسفزئی پراکتوبر 2012 میں وادی سوات میں مینگورہ کے مقام پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حملہ کیا تھا تاہم خوش قسمتی سے وہ اس حادثے میں محفوظ رہی تھیں۔

طالبان کے حملے سے قبل ملالہ کو عالمی سطح پر اْس وقت شہرت ملی جب انہوں نے اس وقت طالبان کے زیرِ قبضہ ضلع سوات کے حالات پر ایک برطانوی خبررساں ادارے بی بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر ‘گل مکئی’ کے نام سے ایک ڈائری تحریر کی تھی۔

ملالہ پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سرگرم عمل ہیں اور انھیں بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے پر گذشتہ برس ہندوستان کے کیلاش ستیارتھی کے ساتھ مشترکہ طورامن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…