تہران(نیوزڈیسک)ایرانی میڈیانے کہاہے کہ شام میں ایرانی فوجیوں کی ہلاکتوں میں روز بروزاضافہ ہور ہاہے اورگزشتہ تین ماہ کے دوران پاسداران انقلاب کے سو سے زائد مسلح اہلکار اورایرانی فوجی مشیر شام میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں ہلاک ہوچکے ہیں ،ایرانی میڈیارکی رپورٹ کے مطابق رواں برس کے مہینے اکتوبر سے ایک سو سے زائد پاسدارانِ انقلاب کے مسلح اہلکار یا ایرانی فوجی مشیر شام میں ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔ ان میں چار اعلیٰ فوجی افسران ہیں۔ 2012 سے مسلح تنازعے کے شروع ہونے کے بعد سے اِس سال ستمبر تک ایران کے تقریباً ایک سو قریب فوجی ہلاک ہوئے تھے اور صرف دو ماہ میں اِس تعداد میں انتہائی زیادہ اضافہ دیکھا گیا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی مسلح اہلکار شام میں اسد حکومت کے مخالفین کے سامنے آن کھڑے ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق رواں برس اکتوبر میں ایران کے بریگیڈئر جنرل حسین ہمدانی کو شامی شہر حلب کے قریب ایک حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا وہ شام میں ہلاک ہونے والے سینیئر ترین ایرانی فوجی افسر تھے، حسین ہمدانی کی ہلاکت کو ایران میں انتہائی اہمیت حاصل ہوئی۔ اِس مناسبت سے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اِس ہلاکت سے شام میں ایران کی فوجی شمولیت کے حوالے سے ایک نئے عہد کا آغاز ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق اِس وقت تین ہزار سے زائد ایرانی فوجی شورش زدہ عرب ملک کے کئی حصوں میں متعین ہیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
روانگی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی ہر چیز وہیں پھینک دی
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
بھارت اور یو اے ای کے بڑے معاہدے سامنے آگئے
-
دبئی کی بجٹ ائیرلائن نے پاکستان کے 3 بڑے شہروں کیلئے پروازیں معطل کر دیں
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟



















































