جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

امریکہ ہم جنس پرستوں کو خون عطیہ کرنے کی مشروط اجازت مل گئی

datetime 22  دسمبر‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکہ میں خوراک اور ادویات کے ادارے (ایف ڈی اے) کی جانب سے 30 سال کی پابندی کے بعد ہم جنس پرست مردوں کے خون عطیہ کرنے کے حوالے سے قانون میں نرمی کر دی ۔ اب وہ ہم جنس پرست افراد جو ایک سال سے جنسی طور پر سرگرم نہیں ہیں ا±نھیں خون عطیہ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ہم جنس پرستی کے لیے سرگرمِ عمل کارکنوں نے اس ایک سالہ قانون کو امتیازی سلوک قرار دیا ہے۔ لیکن یہ قانون دیگر ممالک جیسے برطانیہ، آسٹریلیا اور جاپان کی پالیسی سے مماثلت رکھتا ہے۔یہ پابندی سنہ 1980 میں مہلک مرض ایڈز کے بحران کے آغاز کے موقع پر لگائی گئی تھی۔وہ گروہ جو خون کے عطیات کے لیے آمادہ کرنے کے لیے کام کرتے ہیں انھوں نے ہم جنس پرست عطیہ کنندگان پر پابندی کو ’طبی طور پر غیر مجاز‘ قرار دیا ہے۔ایک سرگرم کارکن ڈیوڈ اسٹیسی نے اس فیصلے کو ’درست سمت کی جانب قدم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایف ڈی اے کو اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انسانی حقوق کی مہم کے ترجمان اسٹیسی کے مطابق ’اس سے ہم جنس پرستوں اور خنثوں (دونوں جِنسی خَص±وصیات رَکھنا) کی بدنامی ہوگی۔ محض موجودہ سائنسی تحقیقات اور خون کی جانچ کی جدید ٹیکنالوجی کی روشنی میں اِسے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘ایف ڈی اے کا یہ فیصلہ سنہ 2014 میں دی جانے والی ایک رسمی تجویز کی پیروی کرتا ہے۔ وفاقی ایجنسی نے خون کے عطیات کے لیے قومی معیار ترتیب دیا ہے جس کی جانچ بیماریوں کے لیے کی جارہی ہے۔اس قانون کی تبدیلی سے قبل امریکہ میں امکانی عطیہ کنندگان جو سنہ 1977 کے بعد سے دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کا اعتراف کرتے تھے ا±نھیں خون دینے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔نئی پالیسی ناصرف ہم جنس پرست مردوں بلکہ دیگر انتہائی حساس گروہوں کے لیے بھی یکساں ہے۔ وہ لوگ جو گذشتہ 12 ماہ کے دوران جسم فروشوں کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرچکے ہیں یا نسوں کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والی منشیات استعمال کرچکے ہیں ا±ن پر بھی خون عطیہ کرنا ممنوع ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…