اسلام آباد (این این آئی) فیصل صالح حیات کی نئی سیاسی جماعت کی ”چال“ کامیاب،پنجاب میں بڑی وکٹ گر گئی،پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی صوبائی تنظیموںمیں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان پارٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں متوقع ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف علاقوںکے عہدیداروں اور سینئر کارکنوں سے صلاح مشورے کے بعد اب بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ہے ۔رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے پارٹی کی پنجاب کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا تاہم پارٹی ابھی تک ان کا استعفیٰ منظور کرنے کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تاہم پنجاب کی صدارت کے حوالے سے قمر زمان کائرہ سمیت دیگر اہم ناموں پر غور کئے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیر داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات کو پیپلزپارٹی پنجاب کا صدر بنائے جانے کا امکان ہے تاہم اس کی کوئی مصدقہ اطلاعات نہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ان سابق پی پی رہنماﺅں کو واپس اپنی پارٹی میں لینے کے لئے رضامند نہیں ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ چھوڑ دیا تاہم ان کے والد آصف علی زرداری نے اس حوالے سے لچک کا مظاہرہ کیا ہے ۔
فیصل صالح حیات کی نئی سیاسی جماعت کی ”چال“ کامیاب،پنجاب میں بڑی وکٹ گر گئی
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
اختتام کا آغاز
-
ایران، اسرائیل امریکا جنگ،بابا وانگا کی خطرناک پیشگوئی
-
یو اے ای میں مقیم پاکستانیوں کے لیے اہم خبر آگئی
-
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں، حکومت پاکستان کا بڑا فیصلہ!
-
دو چھٹیوں کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
-
ایرانی سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس کرنے پر سابق گورنرپنجاب چوہدری محمد سرور کو بیٹے نے تنقید کا...
-
آیت اللہ خامنہ ای ایک ہاتھ چادر کے نیچے کیوں ڈھانپ کر رکھتے تھے؟
-
پنجاب میں موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کے لیے اہم خبر آگئی
-
سونا ہزاروں روپے مہنگا فی تولہ قیمت نے نیا ریکارڈ قائم کر دیا
-
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کی ناقص کارکردگی، پہلا استعفیٰ آگیا
-
سحری میں اہل خانہ کا اجتماع ،دوشیزہ نے باپ کو قتل کرڈالا
-
روس کی تیسری عالمی جنگ کی دھمکی
-
پاکستان کی درخواست پر ایران نے سعودی عرب پر حملے نہ کرنے کی ضمانت دے دی
-
سوشل سکیورٹی سے رجسٹرڈ مریم نواز راشن کارڈ نہ رکھنے والے محنت کشوں کے لیے خوشخبری



















































