جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

جنوبی افریقہ، تپ دق کے علاج کی حکمت عملی زیر غور

datetime 21  دسمبر‬‮  2015
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(نیوزڈیسک)جنوبی افریقہ میں تپ دق کے بڑھتے ہوئے مرض کی روک تھام کے لائحہ عمل کے لئے دنیا بھر کے ماہرین طب اس ہفتے کیپ ٹاو¿ن میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔دپ دق کا یہ مرض افریقہ کے اس ملک میں ایچ آئی وی سے کہیں زیادہ عام ہے جس کا وائرس ایڈز کے مرض کی وجہ بھی بنتا ہے۔ تاہم، حالیہ تحقیق کے نتائج میں ایسے مریضوں کے لئے خوشخبری بھی موجود ہے۔جوہانسبرگ سے وائس آف امریکہ کی انیتا پاول کی رپورٹ کے مطابق، کیپ ٹاو¿ن میں پھیپھڑوں کی صحت سے متعلق سالانہ کانفرنس میں دنیا بھر کے محقیقن نے بدھ کو بچوں کے لئے دوستانہ علاج کے نئے طریقہ کار کا اعلان کیا۔نئے علاج سے دنیا بھر میں 10 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچے گا اور ان میں امید پیدا ہوگی کہ وہ سنجیدگی سے اس مرض کا مقابلہ کرسکیں، جو کہ عموماً جان لیوا مرض مانا جاتا ہے۔نئے علاج کا طریقہ ڈبلو ایچ او اور امریکی ایجنسی جیسے بین الاقوامی ایڈ گروپ کے تعاون سے ایجاد کیا گیا ہے تپ دق ایک ایسا مرض ہے جو معاشی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا براہ راست تعلق غربت سے ہے۔ ایسے لوگ ہی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جنھیں بہتر خوراک میسر نہ ہو۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق، سانس کی بیماریاں دنیا میں اموات کی ایک بڑی وجہ رہے گی، حالانکہ یہ تمام امراض قابل علاج ہیں۔ ڈبلو ایچ او کا کہنا ہے کہ تپ دق سے گزشتہ برس 15 لاکھ لوگ ہلاک ہوئے جن میں ایک لاکھ 40 ہزار بچے شامل تھے۔



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…