پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

جنوبی افریقہ، تپ دق کے علاج کی حکمت عملی زیر غور

datetime 21  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)جنوبی افریقہ میں تپ دق کے بڑھتے ہوئے مرض کی روک تھام کے لائحہ عمل کے لئے دنیا بھر کے ماہرین طب اس ہفتے کیپ ٹاو¿ن میں اکٹھے ہو رہے ہیں۔دپ دق کا یہ مرض افریقہ کے اس ملک میں ایچ آئی وی سے کہیں زیادہ عام ہے جس کا وائرس ایڈز کے مرض کی وجہ بھی بنتا ہے۔ تاہم، حالیہ تحقیق کے نتائج میں ایسے مریضوں کے لئے خوشخبری بھی موجود ہے۔جوہانسبرگ سے وائس آف امریکہ کی انیتا پاول کی رپورٹ کے مطابق، کیپ ٹاو¿ن میں پھیپھڑوں کی صحت سے متعلق سالانہ کانفرنس میں دنیا بھر کے محقیقن نے بدھ کو بچوں کے لئے دوستانہ علاج کے نئے طریقہ کار کا اعلان کیا۔نئے علاج سے دنیا بھر میں 10 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچے گا اور ان میں امید پیدا ہوگی کہ وہ سنجیدگی سے اس مرض کا مقابلہ کرسکیں، جو کہ عموماً جان لیوا مرض مانا جاتا ہے۔نئے علاج کا طریقہ ڈبلو ایچ او اور امریکی ایجنسی جیسے بین الاقوامی ایڈ گروپ کے تعاون سے ایجاد کیا گیا ہے تپ دق ایک ایسا مرض ہے جو معاشی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا براہ راست تعلق غربت سے ہے۔ ایسے لوگ ہی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جنھیں بہتر خوراک میسر نہ ہو۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق، سانس کی بیماریاں دنیا میں اموات کی ایک بڑی وجہ رہے گی، حالانکہ یہ تمام امراض قابل علاج ہیں۔ ڈبلو ایچ او کا کہنا ہے کہ تپ دق سے گزشتہ برس 15 لاکھ لوگ ہلاک ہوئے جن میں ایک لاکھ 40 ہزار بچے شامل تھے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…