پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

30 اور 40 سال کے درمیان پہلی بارماں بنتی ہیں ان کے بچے زیادہ اسمارٹ ہوتے ہیں

datetime 20  دسمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک) موٹاپا عالمی سطح پر ایک بڑی بیماری کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اورسائنس دان اس پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات اور تحقیق کررہے ہیں ایسی ہی ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جو خواتین 30 اور 40 سال کے درمیان پہلی بارماں بنتی ہیں ان کے بچے زیادہ اسمارٹ ہوتے ہیں جب کہ ایسی خواتین جو 40 سال کی عمر کے بعد ماں بنتی ہیں ان کے بچے فربہ اور موٹے ہوتے ہیں۔
برطانیہ اسکول ا?ف اکنامکس میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے جو خواتین 23 سے 29 سال کے درمیان پہلی بار ماں بنتی ہیں ان کے بچے کم ذہین اور ہوشیار ہوتے ہیں جب کہ جو خواتین 30 سے 39 سال کے درمیان پہلی بار ماں بنتی ہیں ان کے بچے زیادہ ذہین اور اسمارٹ ہوتے ہیں جب کہ 40 سال کے بعد پہلی بار ماں بننے والی خواتین کے بچے فربہ اور موٹاپے کا شکار بھی ہوتے ہیں۔ تحقیق کے سربراہ اپنی تحقیق کے دوران 18 ہزار بچوں کی پیدائش سے لے کر نوجوانی تک کی عمر کا مطالعہ کیا اور اس سے جو نتیجہ سامنے آیا اس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی صحت کا تعلق ماو¿ں کی عمر کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی ماحول پر بھی ہوتا ہے تاہم ایک بات توواضح ہے کہ دیر سے ماں بننے والی خواتین کے بچے اوور ویٹ ہوتے ہیں اور ان کی یہ کیفیت بڑی عمر تک رہتی ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ جو خواتین 30 سال کی عمر میں پہلی بار ماں بنتی ہیں اور وہ تعلیم یافتہ، بہتری مالی پوزیشن اور گھریلو تعلقات میں استحکام رکھتی ہیں تو ان کے بچے زیادہ ہوشیار، ذہین اور اسمارٹ ہوتے ہیں اور یہ اس لیے ہوتا ہے کہ ان ماو¿ں کو بچوں کی کیئر کرنے کے لیے موزوں ماحول میسر ہوتا ہے اور وہ زیادہ ایکٹو اور اپنے حمل کے دوران بہترمنصوبہ بندی کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جو خواتین زیادہ بڑی عمر یعنی 40 سال کے بعد پہلی بار ماں بنتی ہیں وہ بچے کے معاملے میں ضرورت سے زیادہ محتاط ہوتی ہیں اور بچوں کواپنا دودھ پلاتی اور ان کو اچھی طرح سمجھتی ہیں جس سے وہ زیادہ موٹے ہوجاتے ہیں۔
ماہرین کا تحقیق کے ایک اور پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہنا تھا کہ جب تحقیق کے دوران صرف معاشی اور معاشرتی پہلو کو سامنے رکھ کر بچوں کی صحت کا جائزہ لیا گیا تو جو خواتین 20 سے 29 یا پھر 30 سے 39 سال کے درمیان مائیں بنتی ہیں تو ان کی صحت میں کوئی زیادہ فرق نہ تھا لیکن یہ فرق 40 سال کی عمر میں ماں بننے والی خواتین میں بڑا واضح تھا۔ ماہرین کے مطابق اس پوری تحقیق کو یوں سمیٹا جا سکتا ہے کہ جو خواتین 40 سال کی عمر میں پہلی بار مائیں بنتی ہیں ان میں کم توانائی ہوتی ہے اور وہ کم سرگرمیوں میں شریک ہوتی ہیں جس کی وجہ سے وہ زیادہ موٹے بچے کو جنم دیتی ہیں۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…