منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

بنگلہ دیش میں موت کارقص ،عالمی ادارے نے انتباہ جاری کردیا

datetime 18  دسمبر‬‮  2015 |

ڈھاکہ(نیوزڈیسک)بنگلہ دیش میں ملبوسات کی صنعت سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس شعبے میں کام کرنے والے 30 لاکھ افراد زیادتی اور خطرناک حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش میں صرف ایک چوتھائی گارمنٹس تیار کرنے والی فیکٹریوں کو نئے سیفٹی پروگرام کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ 2013 میں رانا پلازہ کے منہدم ہونے کے واقعے کے بعد بنگلہ دیش میں ملبوسات تیار کرنے والی فیکٹریوں کو اپنے ملازمین کے لیے حفاظتی اقدامات اٹھانے کے لیے کہا جاتا رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں گارمنٹس کی برآمدات، دنیا کی دوسری بڑی انڈسٹری ہے اور یہاں حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ملبوسات بنانے والی 81 فیصد فیکٹریاں جو بین الاقوامی اداروں کو اپنا مال بیچتی ہیں، وہ محفوظ ہیں۔نیو یارک یونیورسٹی کے سینٹر برائے تجارت اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے بتایاکہ 7000 میں سے تقریبا نصف فیکٹریاں بین الاقوامی ریٹیلرز کو براہ راست کپڑا برآمد کرتی ہیں جس کی وجہ سے ان کی نگرانی کی جاتی ہے لیکن ان میں سے بھی صرف نصف فیکٹریوں کو انڈسٹری کے حفاظتی پروگرام کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔رانا پلازہ گرنے کے ہولناک حادثے کے بعد یورپی اور امریکی ریٹیلرز نے بنگلہ دیش میں آگ سے بچاؤ، عمارات کی پائیداری اور ملازمین کے تحفظ کے لیے ایک اتحاد قائم کیا، جس کے ذریعے 1900 فیکٹریوں کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا ہے۔تحفظ فراہم کرنے والے اتحاد اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے تحت کرائے جانے والے 3425 معائنوں میں صرف 8 فیکٹریاں پاس ہوئیں۔ رپورٹ میں لکھا گیا ہے، ’’رانا پلازہ واقعے کے بعد گارمنٹس سیکٹرکی اصلاح کا عمل سست روی کا شکار ہے جس کی ایک وجہ مہنگی تعمیراتی تبدیلیاں ہیں جو معائنے کو پاس کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ رانا پلازہ سانحے کے بعد کئی ممالک کی حکومتوں، بین الاقوامی ریٹیلرز اور ترقیاتی اداروں نے بنگلہ دیش میں ملبوسات کی انڈسٹری کے لیے 280 ملین ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ یہ پیسہ کہاں خرچ کیا جا رہا ہے اور یقینی طور پر یہ پیسہ ان ہزاروں فیکٹریوں میں حفاطتی اقدامات پر عملد درآمد کے لیے خرچ نہیں کیا جا رہا جو بالواسطہ طور پر اپنا مال برآمد کرتی ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یورپی اور امریکی ریٹیلرز کی جانب سے بنائے گئے اتحادی پروگرام کے تحت 100 ملین ڈالر پانچ برس کے لیے ان فیکٹریوں کے لیے مختص کیے گئے تھے جو بین الاقوامی ریٹیلرز کو براہ راست اپنا مال درآمد کرتی ہیں ایسی فیکٹریاں جو اپنے سرمایے سے بھی حفاظتی اقدامات اٹھا سکتی ہیں۔رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ ایسی فیکٹریوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو شفافیت اپناتی ہیں، فیکٹریوں کے معائنوں کو بھی بڑھانا چاہیے اور حفاظتی اقدامات اٹھانے میں غفلت برتنے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی جانا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…