ہفتہ‬‮ ، 30 مئی‬‮‬‮ 2026 

سعودی عرب کے ایک بلاگر کو سرِعام کوڑے

datetime 10  جنوری‬‮  2015 |

جدہ۔۔۔۔ سعودی عرب کے ایک بلاگر کو سائبر کرائم اور توہین مذہب کے الزام میں سرِعام کوڑے لگائے گئے ہیں۔رائف بدوی کو 1000 کوڑوں اور دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔بدوی کو جمعے کو 50 کوڑے مارے گئے اور کہا جا رہا ہے کہ ان کو ہر ہفتے کوڑے مارے جائیں گے۔بدوی سعودی عرب میں ایک انٹرنیٹ ویب سائٹ ’لبرل سعودی نیٹ ورک‘ کے بانی ہیں اور انھیں 2012 میں توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کی ویب سائٹ بند کر دی گئی تھی۔
حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے بدوی کو دی جانے والا سزا کو شرمناک قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔جمعرات کو امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے سعودی عرب کی حکومت سے اپیل کی کہ ’اتنی سخت سزا پر نظرثانی کی جائے‘ اور بدوی کے مقدمے کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں بلاگر کو دو لاکھ 66 ہزار ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔
2013 میں ایک سعودی عدالت نے کہا تھا کہ رائف بدوی پر ارتداد (ترکِ اسلام) کا مقدمہ نہیں چلا جایا سکتا۔یاد رہے کہ بدوی کے وکیل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2014 میں مختلف جرائم کے الزام میں 15 سال قید کی سزا سنائی تھی۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بدوی کو جدہ کی ایک مسجد کے باہر جمعے کی نماز کے بعد کوڑے مارے گئے۔عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ بدوی کو پولیس کی گاڑی میں مسجد کے باہر لایا گیا اور ان کے خلاف الزامات پڑھ کر سنائے گئے۔بدوی کی پیٹھ جمع ہونے والے لوگوں کی جانب کی گئی اور کوڑے مارے گئے۔ تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کوڑے پڑنے کے دوران بدوی خاموش رہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے فلپ لوتھر نے امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا: ’یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ اتنی سخت سزا کسی ایسے شخص کو دی جائے جو ہمت کر کے محض بحث شروع کرتا ہے اور پرامن اظہارِ خیال کے حق کا استعمال کرتا ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…