منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں فوج کی سیاسی سرگرمیاں ،محکمہ خارجہ کے ترجمان سے سوال،بے ساختہ جواب پرصحافی ہنس پڑے

datetime 11  دسمبر‬‮  2015 |

واشنگٹن(نیوزڈیسک)امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی کی گزشتہ روز پریس بریفنگ کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ترجمان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان میں فوج کی سیاسی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جبکہ وہاں جمہوری منتخب حکومت موجود ہے ۔ اس پرترجمان نے کہاکہ کیا میں نے پاکستانی فوجی رہنماﺅں کو آگے آنے کی منظوری دی ہے؟ اس جواب پرپریس بریفنگ میں موجود صحافیوں کے چہروں پرمسکراہٹ بکھرگئی۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کواپنے مسائل پر دوطرفہ کام کرنا ہوگا مذاکرات کاسلسلہ جاری رہناچاہیے تاکہ دونوں ملکوں کو درپیش اہم مسائل کاسفارتی حل تلاش کیاجاسکے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بات چیت جاری رہے اور اس مقصد کیلئے امریکہ نے دونوں ملکوں کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ترجمان نے کہاکہ پاکستانی فوجی افسران نے حال ہی میں امریکہ میں اپنے ہم منصب افسران سے ملاقاتیں کی ہیں ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتے ہیں اور یہ تعلقات صرف فوج کے ساتھ نہیں بلکہ منتخب حکومت کے ساتھ بھی قائم ہیں۔افغان حکومت اورطالبان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے سوال کے جواب میں ترجمان نے کہاکہ افغان حکومت اور صدراشرف غنی مفاہمتی عمل کی قیادت کررہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ مفاہمتی عمل کے ذریعے افغانستان کو مزید محفوظ بنایاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم افغانستان کو ایک محفوظ اورخوشحال ملک دیکھناچاہتے ہیں جو خود اپنے شہریوں کادفاع کرسکے۔ اسلام آباد میں ہونیوالی ملاقاتیں اہم ہیں ۔ افغانستان کے پاکستان سمیت دیگر ہمسایہ ملکوں سے اچھے تعلقات ہونے چاہئیں اور ہم اسلام آباد میں ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس میں میزبانی پرپاکستان کے شکرگزارہیں۔ترجمان نے کہاکہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ابھی بہت آگے جانا ہے اورہمیں بڑی پیشرفت کی ضرورت ہے۔صدراشرف غنی نے اہم اصلاحات کی ہیں اور وہ حکومت کو جوابدہ اورنمائندہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں افغان نیشنل سیکیورٹی فورسز کو بھی اپنے شہریوں کے دفاع کیلئے بہت کچھ کرنا ہے اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ طالبان ایک بڑا خطرہ ہیں انہوں نے اب بھی قندھار پر حملہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ طالبان میں بعض عناصر دہشتگردی جاری رکھنے کاعزم کئے ہوئے ہیں اس طرح افغانستان اب بھی ایک خطرناک جگہ ہے جس پرمزیدکام کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…