جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

مائیں بچے کی پیدائش کے بعد ذہنی تناﺅ کا شکار ہو جاتی ہیں

datetime 8  دسمبر‬‮  2015 |

لندن(نیوز ڈیسک ) برطانوی ماہرین کی تحقیق کے مطابق تین چوتھائی مائیں اپنے بچے کی پیدائش کے بعد ذہنی تناﺅ کی ایک کیفیت’پوسٹ ننٹل‘ کا شکار ہوتی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہا اپنی ماں بننے کی قابلیت پر سوال اٹھنے کی وجہ سے تناﺅکا شکار مائیں ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتیں جس سے بہت سی مائیں خاموشی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق 700 مائیوں میں اس تنا? کا بعد از ان کے بچے کی پیدائش کے مشاہدہ کیا گیا ہے جس کی وجہ ماہرین کے مطابق بچے کو ماں کا دودھ پلانا بھی ہو سکتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 74 فیصد مائیں اپنے تناﺅ کے علاج کروانے میں پریشانی کا سامنا کرتی ہیں جبکہ 72 فیصد خواتین کو لگتا ہے کہ اس تناﺅ سے بیمار ہو کر اپنے خاندان کا خیال نہیں رکھ پا رہی۔ پوسٹ ننٹل تنا? کی علامات میں ناخوشی،بھوک کا کم لگنا، کم خوابی اور خود اعتمادی کم ہو جانا شامل ہے جو بچے کی پیدائش اور ماں کے دودھ پلانے کی وجہ سے ہارمونز کے لیول میں تبدیلی سے پیدا ہوتی ہیں۔ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق 65 فیصد مائیوں کا کہنا ہے کہ یہ ذہنی تنا? ایک پرفیکٹ ماں بننے کی تگ و دو کا نتیجہ ہے جبکہ 56 فیصد مائیوں کا کہنا ہے کہ یہ تنا? بچے کی تکلیف دہ پیدائش کی وجہ سے ہے، 84 فیصد مائیوں کا خیال ہے کہ بچے کو دودھ پلانے سے جبکہ 46 فیصد مائیوں کا کہنا ہے کہ اپنے بچے کی دیکھ بھال اور زیادہ محبت اس تناﺅ کی وجہ ہے۔ 38 سالہ پوسٹ ننٹل تناﺅ کا شکار ابے موری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کی پیدائش کے بعد 6 ماہ سے پوسٹ ننٹل تناﺅ کا شکار ہے اور اپنی بیماری کا علاج کروا رہی ہے۔اس کا کہنا تھا کہ جب وہ تناﺅ کی ادویات لینا بند کر دیتی ہے تو پوسٹ ننٹل تناﺅ کی علامات واضح ہو جاتی ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ اس تناﺅ کی وجہ سے وہ کئی بار اپنے گھر والوں سے چوری چھپے رویا کرتی تھی۔ ماہرین کے مطابق مائیوں کا پوسٹ ننٹل تناﺅکا شکار ہونا بچے کی پیدائش کے ساتھ جڑا ہوا ہے تاہم مائیوں کو اپنے اس تناﺅ کے علاج کے لیے ڈاکٹروں سے مشورہ لینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے علاج کروانے سے ماں بننے کی قابلیت پر کوئی سوال نہیں اٹھائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…