اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

پیرس میں رسالے ’چارلی ایبڈو پر حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی

datetime 8  جنوری‬‮  2015 |

پیرس۔۔۔۔فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مشہور رسالے ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر حملہ کرنے والے تین مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی ہے اور ان کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔حکام کے مطابق ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر تین مسلح افراد کے حملے میں آٹھ صحافیوں اور دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔فرانسیسی حکام کے مطابق مشتبہ حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی ہے۔ ان میں ایک 32 سالہ شریف ہیں اور ان کے 34 سالہ بھائی سعید۔ تیسرے حملہ آور ککا نام 18 سالہ حمید مراد ہے۔دوسری جانب مقامی نام نہ ظاہر کی شرط پر حکام کا کہنا ہے کہ حمید مراد نے اپنے آپ کو اس وقت حکام کے حوالے کردیا جب انھوں نے اپنا نام اس حملے کے حوالے سے نشر ہوتے دیکھا۔حکام کا کہنا ہے کہ مراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے اب سے کچھ دیر پہلے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں قومی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جمعرات کو قومی سوگ کا دن قرار دیا۔
انھوں نے کہا ’ہمارا اتحاد ہی ہمارا سب سے بہترین ہتھیار ہے۔‘ادھر فرانس کے مختلف شہروں میں اس واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔فرانس میں بدھ کو ہونے والے حملے کو کئی دہائیوں میں سب سے جان لیوا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔اس حملے کے بعد پورے ملک میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور دارالحکومت پیرس میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔فرانس کے چیف پراسیکیوٹر فرانکو مولنز کا کہنا تھا کہ حملے میں 11 افراد زخمی ہوئے جن میں چار کی حالت نازک ہے
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آوروں کو تلاش کرنے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق نقاب پوش مسلح افراد اپنی گاڑی چھوڑ کر دوسری گاڑی میں پیرس کے شمال کی جانب فرار ہو گئے۔عینی شایدین کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملہ آوروں کی جانب سے ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر کے اندر اور باہر کم سے کم 50 گولیوں کی آوازیں سنیں۔اس سے پہلے فرانس کے صدر فرانسوا اولاند جائے وقوعہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دہشت گردی ہے اور ایک غیرمعمولی ظالمانہ طرز عمل ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہزاروں افراد نے شمعیں روشن کیں
ان کا کہنا تھا کہ ’ لوگوں کو بزدلانہ انداز میں قتل کیا گیا، ہمیں اس وجہ سے دھمکایا گیا کیونکہ ہمارا ملک آزادی پسندوں کا ملک ہے۔‘دوسری جانب امریکہ کے صدر براک اوباما نے فرانس کے مزاحیہ رسالے ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر کیے جانے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے حملے آوروں کو تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ’چارلی ایبڈو‘ کے دفتر پر حملے کی مذمت کی ہے۔یورپی یونین کے صدر ڑاں کلود یونکر نے کہا ہے کہ انھیں اس ظالمانہ اور غیر انسانی فعل پر صدمہ ہوا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہلاک شدگان کے لیے اور رسالے کے حق میں مہم شروع ہو گئی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہزاروں افراد نے شمعیں روشن کیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز نیایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومے کے حوالے سے بتایا کہ امریکی ایجنسی اس واقعے کی تفتیش کرنے میں فرانس کی مدد کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…