پیرس(نیوز ڈیسک)فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس شروع ہو گئی ہے جبکہ دنیا کے مختلف شہروں میں مظاہرین ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے ناگزیر اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے کانفرنس کے موقعے پر سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور اس کانفرنس میں 190 ممالک کے سربراہان اور مندوبین شریک ہیں۔’عالمی درجہ حرارت کو خطرناک حد سے روکنا ممکن نہیں ہو گا‘اس حوالے سے دنیا بھر میں 2000 سے زائد تقریبات اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔پیرس میں پولیس نیڈی لا ریپبلک کے مقام پر موجود مظاہرین کے ایک بڑے گروہ کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ مظاہرین بظاہر فرانس میں ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے تاہم کانفرنس کے موقع پر احتجاج کا انعقاد کرنے والے منتظمین نے اس گروہ سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔فرانس کے وزیرِ داخلہ برنار کیزنیو کے مطابق 208 افراد گرفتار کیے گئے، جن میں سے 174 اب بھی زیرِ حراست ہیں۔خیال رہے کہ پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے حملوں کے بعد وہاں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔پولیس سے جھڑپیں کرنے والے مظاہرین میں سے بہت سے ایسے تھے جنھوں نے اپنے چہروں کو چھپا رکھا تھا۔ پولیس اور مظاہرین نے جھڑپوں کے نتیجے میں 13 نومبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یادگار پر موجود پھولوں اور موم بتیوں کو بھی اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔فرانس کے صدر نے اسے شرمناک اقدام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جھڑپیں کرنے والوں کا ماحول کے تحفظ سے کوئی تعلق نہیں۔اقوام متحدہ کی اس کانفرنس کو COP21 کا نام دیا گیا ہے، جس میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کے لیے کسی متفقہ معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ پیرس میں ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد کانفرنس میں معاہدے طے پا جانے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔11 دسمبر تک جاری رہنے والی کانفرنس میں تقریباً 40 ہزار افراد شرکت کریں گے۔کانفرنس کے آغاز پر 147 ممالک کے سبراہانِ مملکت شرکت کر رہیں جبکہ اس سے قبل سنہ 2009 میں ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ہونے والی کانفرنس میں مدوبین متفقہ معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔پیرس میں ہونے والی اس کانفرنس میں امریکی صدر براک اوباما اور چین کے صدر شی جن پنگ بھی پہنچ رہے ہیں۔ پیرس میں ہونے والے حالیہ حملوں کے بعد فرانس کی حکومت نے کہا تھا کہ پیرس کی عوام سے یکجہتی کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کانفرنس میں شرکت کریں۔مالدیپ سے تعلق رکھنے والے مندوب امجد عبداللہ کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگ رہا ہے کہ کسی ڈیل تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں کیونکہ مختلف لوگوں سے بات کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔‘برطانیہ کے سابق مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ٹام برکی کا کہنا ہے کہ بعض رہنما یہ کہیں گے کہ عالمی حدت میں اضافے پر قابو پانے سے ہم دہشت گردی کی وجوہات کو کنٹرول کر سکتے ہیں،امریکہ کے مذاکرات کار نے چند روز قبل نیوز بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ‘ہم ایک معاہدے کے متلاشی ہیں جو وسیع ہو اور اس میں سب کی شراکت ہو۔‘بہت سے ترقی پذیر ممالک بشمول یورپی یونین اس سے اختلاف کرتے ہیں۔یورپی یونین کے کمشنر میگوئیل آریاس کینے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم نے جس طرح کا جذبہ پیرس کی سڑکوں پر دیکھا ہے اس کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے، قانونی طور پر پابند کرنے کا معاہدہ کرتے ہوئے۔‘
پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس شروع،مظاہرے اور جھڑپیں،208 افراد گرفتار
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘
-
کوکین ڈیلر انمول پنکی کے سنسنی خیز انکشافات، شوبز شخصیات اور سیاستدانوں کے نام بتادیے
-
درآمدی سولر پینل پر کسٹمز ڈیوٹی کیلیے نئی قیمتیں مقرر
-
بڑا کریک ڈاؤن ! 10غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیل کردیا گیا
-
ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
-
تبو نے بالی ووڈ کی خوفناک حقیقت بے نقاب کردی
-
عالیہ بھٹ کو کانز فلم فیسٹیول میں شرمندگی کا سامنا
-
فرانسیسی صدر میکرون کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا وجہ سامنے آگئی
-
کاروباری اوقات میں نرمی کا اعلان
-
حکومت کا گاڑیوں کی خریداری آسان بنانے کا فیصلہ
-
چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے؟
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
ڈرگ ڈیلر انمول پنکی کے معاملے پر مریم نواز کا ایکشن
-
ملک بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ



















































