ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

شاہین اور ا±لو کی طرح دکھنے والے پرندے نے ہرین کوحیران کردیا

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) اس کائنات میں ہزاروں نسلوں اور شکلوں کے چرند اور پرند موجود ہیں جن کے رنگ ڈھنگ دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن ہالینڈ میں شاہین اور الو کی کی شکل و صورت والے عجیب و غریب پرندے نے جنگلی حیات کے ماہر فوٹو گرافر کو حیرت میں ڈال دیا اور پریشان ہو گئے کہ اسے شاہین کا نام دیا جائے کہ الو۔ہالینڈ میں ایسے عجیب و غریب پرندے کو دیکھا گیا ہے جس کی شکل الو اور شاہین سے ملتی جلتی ہے، یہ خبر ملتے ہی یورپ بھر سے جنگلی حیات کے ماہر فوٹو گرافر متعلقہ علاقے میں پہنچ گئے اور ہر کوئی اس پرندے کی تصاویر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں یاد گار کے طور پر بند کرنا چاہتا تھا لیکن جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو پرندے غائب تھے۔ فوٹو گرافر اس قصبے کی گلیوں میں اس پرندے کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور جلد ہی انہیں یہ پرندہ ایک چھت پر بیٹھا نظر آگیا۔ ان فوٹو گرافر میں کرس میوس نامی فوٹو گرافر بھی شامل تھا جو اس پرندے کی اڑتے ہوئے تصویر لینے کی کوشش کررہا تھا کہ اچانک وہ پرندہ اڑتا ہوا اس کے ساتھ کھڑے ایک اور فوٹو گرافر کے سر پر آبیٹھا اور اس موقع سے فوٹو گرافر نے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس پرندے کی تصویر کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں بند کرلیا۔59 سالہ ماہر فوٹو گرافر میوس کی جانب سے شائع کردہ اس عجیب و غریب پرندے کی تصویر جب ویب سائٹس او سوشل میڈیا پر چلی تو ہزاروں لوگ پرندے کی شکل اور اس کے میوس کے سر پر بیٹھنے سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ میوس کا کہنا تھا کہ یہ ایک سحر انگیز پرندہ تھا اور وہ کچھ دیر فوٹو گرافر کے سر پر بیٹھا، اپنے پر ہلائے اور جنگل کی جانب پرواز کرگیا۔ میوس کا کہنا تھا کہ کئی لوگ تو اس تصویر کو دیکھ کر سمجھےکہ شاید فوٹو شاپ کے کمال نے پرندے کو فوٹو گرافر کے سرپر بٹھا دیا لیکن یہ ایک حقیقی تصویر ہے، اس پرندے کو یورشین ایگل کہا جاتا ہے اور اس کا وزن 3 کلو گرام جب کہ اس کے پنجے 2.3 انچ لمبے ہیں۔ گزشتہ کئی ماہ سے اس پرندے نے انسانوں پر 50 حملے کیے ہیں جس سے کئی لوگ زخمی بھی ہوئے تاہم پہلی بار اس پرندے کو کیمرے کی آنکھ نے دیکھا جب کہ اس سے قبل یہ پرندہ کبھی دیکھا نہیں گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…