پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ڈپازٹس میں کمی کے باعث بینکوں کا قرضوں پر انحصار بڑھ گیا

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2015 |

کراچی(نیوز ڈیسک ) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شعبہ بینکاری کی جولائی تا ستمبر 2015 سہ ماہی کی کارکردگی جائزہ رپورٹ جاری کردی۔ جائزے میں بتایا گیا کہ بینکاری شعبے کا جولائی تا ستمبر بعد ازٹیکس منافع148ارب روپے رہا جو سال2014 کی اسی مدت کے دوران 163ارب روپے تھا۔ستمبر 2015 میں اثاثوں پر قبل از ٹیکس منافع بڑھ کر 2.6فیصد ہوگیا جو ستمبر 2014 میں 2.2 فیصد تھا تاہم متاثرہ پورٹ فولیو کی مد میں پرویڑنز کی ایڈجسٹمنٹ کا امکان سال کے اختتام تک منافع کی مزید نموکوروک سکتا ہے، ستمبر 2015 کی سہ ماہی میںبینکاری شعبے کی اثاثہ جاتی بنیاد میں2.1فیصد کا معمولی اضافہ ہوا، مالیاتی ضروریات کی بنا پر سرکاری شعبے میں قرضے کی طلب مضبوط رہی جبکہ نجی شعبے کے قرضوں میں 0.4فیصد کی برائے نام سیزنل کمی آئی۔مقامی قرض سائیکل کے عین مطابق ڈپازٹس 2.6 فیصد کم ہوگئے چنانچہ بینکوں نے قرض گیری پر زیادہ انحصار کیا اور قرض گیری اس سہ ماہی میں 38 فیصد بڑھ گئی۔ بینکاری شعبے کی صحت کے حوالے سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا کہ اثاثہ جاتی معیار مستحکم رہا کیونکہ غیرفعال قرضے تقریباً کسی تبدیلی کے بغیر 630ارب روپے رہے۔تاہم قرضوں میں سیزنل کمی کی بنا پر غیرفعال قرضوں اور مجموعی قرضوں کا تناسب (انفیکشن تناسب) ستمبر 2015 میں معمولی بڑھ کر 12.5فیصد ہوگیا جو جون میں12.4فیصد تھا تاہم متاثرہ قرضوں کے عوض جمع شدہ تموین (پرویڑننگ) کے باعث خالص غیرفعال قرضوں اور خالص مجموعی قرضوں کا تناسب کم ہوکر 2.5 فیصد ہوگیا جو جون 2015 میں 2.7فیصد تھا۔شرح کفایت سرمایہ (سی اے آر) کے جون 2015 میں 17.2 فیصد سے بڑھ کر ستمبر میں 18.2 فیصد ہوجانے کے باعث بینکاری شعبے کی ادائیگی قرض کی صلاحیت مزید بہتر ہوگئی، اہم بات یہ ہے کہ بینکاری نظام کو بلند سطح کے سرمائے کا تحفظ حاصل ہے جو ہنگامی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…