اسلام آباد (نیوز ڈیسک) انسان کے لئے اس دنیا میں شفیق ترین ہستی ماں ہے جو کڑے سے کڑے وقت میں بھی اولاد کے لئے خود کو وقف کئے رکھتی ہے۔ چین کے ڑی شانگ شہر سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ لڑکے یوپنجیا کو بھی اس کی خطرناک بیماری کی وجہ سے جب سب نے تقریباً مردہ قرار دے کر چھوڑدیا تو اس کی ماں نے اس کے پہلو سے ہٹنے سے انکار کر دیا۔ جب یہ نوجوان تقریباً 6 ماہ قبل دماغ کی شریان پھٹنے سے کومے میں چلا گیا تو اس کے ساتھ صرف اس کی ماں تھی۔ ڈاکٹروں نے کئی ماہ تک نوجوان کو ہوش میں لانے کی کوشش کی لیکن بالآخر وہ بھی ہمت ہار گئے اور خاتون کو بتایا کہ اب اس کا بیٹا کبھی واپس نہیں آئے گا۔ دوسری جانب اس ماں کو اپنی محبت پر اتنا یقین تھا کہ وہ روزانہ اپنے بیٹے کے سرہانے بیٹھ کر اس کے ساتھ باتیں کرتی، اسے کہانیاں سناتی اور رات کو سونے سے قبل اسے لوری بھی سناتی۔اگرچہ ڈاکٹر نوجوان کو تقریباً مردہ قرار دے چکے تھے لیکن اس کی ماں کو اس کے لوٹ آنے کا یقین تھا اور بیٹے کے کومے میں جانے کے ٹھیک 198 دن بعد جب وہ اسے لوری سنارہی تھی تو اچانک اس نے آنکھ کھول دی۔ چھ ماہ سے زائد عرصے کے لئے نیم مردہ رہنے والے نوجوان کو آنکھیں کھولتا دیکھ کر اس کی ماں کی خوشی کی انتہا نہ رہی اور وہ فرط جذبات سے چیخ اٹھی۔ ہسپتال کے ڈاکٹر بھی اس کرشمے پر حیران رہ گئے اور انہوں نے خاتون کی محبت اور ثابت قدمی کو خراج عقیدت پیش کیا۔ یوپنجیا کا علاج کرنے والی ٹیم میں شامل ایک ڈاکٹر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ”میں یہ اعتراف کروں گا کہ یو پنجیا کی والدہ نے کبھی ایک لمحے کے لئے بھی اس بات کو نہیں مانا کہ اس کا بیٹا اب اس دنیا میں واپس نہیں آئے گا۔ ہمیں اس بات پر واقعی خوشی ہے کہ انہوں نے ہماری بات نہیں مانی، اور ہماری طبی رائے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے بیٹے کی واپسی کی منتظر رہیں۔ واقعی یہ ان کی مامتا ہے جو ان کے بیٹے کو واپس لے آئی۔ مجھے