اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر انصر محمود عرف مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے مسٹر پتلو سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے چھ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم سمیت دیگر نامزد افراد کی تلاش جاری ہے۔پولیس کے مطابق درج ایف آئی آر میں مسٹر پتلو سمیت نو افراد کو نامزد کیا گیا ہے، جبکہ 45 نامعلوم افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔ مقدمے میں قتل بالسبب، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی، توڑ پھوڑ، اشتعال انگیزی اور غیر قانونی اجتماع سے متعلق دفعات لگائی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسٹر پتلو سمیت بعض ملزمان تاحال مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جارہی ہیں۔واقعے میں زخمی ہونے والا ریحان نامی شخص بھی اتوار کو دم توڑ گیا۔ سیالکوٹ پولیس کے مطابق اس کی حالت تشویشناک ہونے پر لاہور منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گیا۔ اس سے قبل عقیل نامی شخص موقع پر ہی ہلاک ہوگیا تھا، یوں جاں بحق افراد کی تعداد دو ہوگئی ہے۔پولیس کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق ہفتے کی شام ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں مسٹر پتلو کی مہندی کی تقریب منعقد کی جارہی تھی۔ منتظمین نے سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو مدعو کیا تھا اور تشہیری مہم میں موٹر سائیکلوں، گاڑیوں اور دیگر قیمتی انعامات دینے کے اعلانات کیے گئے تھے، جس کے باعث بڑی تعداد میں لوگ تقریب میں پہنچ گئے۔
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ تقریب کے دوران مسٹر پتلو اسٹیج پر آئے اور شرکا کو فوری طور پر گراؤنڈ میں داخل ہونے کا کہا۔ اس اعلان کے بعد لوگوں نے ایک ساتھ اندر جانے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور متعدد افراد کچلے جانے یا زخمی ہونے سے متاثر ہوئے۔پولیس کے مطابق مسٹر پتلو کی ٹیم نے تقریب میں عوام کی بڑی تعداد کو لانے کے لیے سوشل میڈیا پر دو کروڑ روپے تقسیم کرنے، ایک کار، 50 موٹر سائیکلیں، موبائل فونز اور دیگر قیمتی تحائف دینے کی تشہیر بھی کی تھی۔ اس دعوت پر صرف سیالکوٹ ہی نہیں بلکہ گوجرانوالہ، گجرات، وزیرآباد، منڈی بہاؤالدین اور نارووال سے بھی بڑی تعداد میں لوگ مقررہ وقت سے پہلے فراز اسٹیڈیم پہنچ گئے تھے۔واقعے کے بعد ریسکیو 1122 اور دیگر امدادی اداروں کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں اسٹیڈیم کے باہر لوگوں کا بڑا ہجوم دکھائی دیتا ہے، جو اچانک اندر داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ ویڈیو میں سکیورٹی گارڈز کو ہجوم روکنے کی کوشش کرتے اور بعض افراد کو لاٹھیوں کے ذریعے پیچھے دھکیلتے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے مطابق مسٹر پتلو کو ڈسکہ روڈ پر واقع فراز اسپورٹس اسٹیڈیم میں نجی تقریب منعقد کرنے کی اجازت دی گئی تھی، تاہم بعد میں شرائط کی خلاف ورزی سامنے آنے پر اجازت نامہ منسوخ کردیا گیا تھا۔ انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ این او سی صرف چار دیواری کے اندر نجی تقریب اور محفلِ سماع وغیرہ کے انعقاد کے لیے جاری کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق اجازت نامے میں تقریب شروع کرنے کا وقت نمازِ عشا کے بعد مقرر تھا، لیکن منتظمین کی جانب سے شام تقریباً چار بجے ہی انتظامات میں خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اس کے بعد ڈپٹی کمشنر نے ایونٹ کا این او سی منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ منتظمین نے انعامات کی قرعہ اندازی اور تقسیم کے اعلانات کے ذریعے بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کیا تھا۔ تقریب کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر شرکا کو بیک وقت گراؤنڈ میں آنے کی ہدایت دی گئی، جس سے ہجوم بے قابو ہوگیا اور بھگدڑ کی صورتحال پیدا ہوئی۔پولیس کا مزید کہنا ہے کہ تقریب کے منتظمین نے اجازت نامے کی شرائط اور حفاظتی ضوابط پر عمل نہیں کیا۔ واقعے کے دوران مین ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی، جبکہ ہنگامہ آرائی اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔



















































