کراچی(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں اندرونی اختلافات کے دوران پارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل فردوس شمیم نقوی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔
انہوں نے اپنا استعفیٰ پارٹی قیادت کو بھجوا دیا، جبکہ پارلیمانی گروپ اور سیاسی کمیٹی کو بھی فیصلے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کی جانب سے فردوس شمیم نقوی کو پارٹی سینیٹر مشعال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ یہ ہدایت پارٹی نظم و ضبط اور سینئر قیادت سے متعلق بیانات کے معاملے پر دی گئی تھی۔فردوس شمیم نقوی نے اپنے استعفے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ کسی ناراضی یا اختلاف کی بنیاد پر نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے تاحال مشعال یوسفزئی کو شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا۔
واضح رہے کہ بیرسٹر گوہر نے اس سے قبل کہا تھا کہ مشعال یوسفزئی کو پارٹی کی سینئر قیادت کے بارے میں بیانات دینے اور پارٹی اصولوں کی خلاف ورزی پر شوکاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق متعلقہ رہنما کو اس نوعیت کے رویے پر پہلے بھی تنبیہ کی جاچکی تھی۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ پارٹی کے اندر اختلاف رائے کو متعلقہ فورمز پر پیش کرنے کے حامی رہے ہیں، تاہم پارٹی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بعض معاملات میں کارروائی کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی میں اختلافات کی شدت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ایک بیان پر سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی۔ سلمان اکرم راجہ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں پارٹی کے اندرونی معاملات اور نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب سے متعلق مبینہ کوششوں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
اس معاملے پر علی امین گنڈاپور نے بھی ردعمل دیتے ہوئے سلمان اکرم راجہ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں اور پارٹی کے فیصلے بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کرنے ہیں۔علی امین گنڈاپور نے پارٹی رہنماؤں کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے پر بھی اعتراض کیا، جبکہ بیرسٹر گوہر نے معاملے کو سنبھالنے کے لیے پارٹی رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطے کیے اور انہیں بیانات دینے سے گریز کرنے کی ہدایت کی۔بیرسٹر گوہر نے اس موقع پر پارٹی کے اندر اتحاد برقرار رکھنے اور عمران خان کے فیصلوں کے ساتھ کھڑے رہنے پر زور دیا۔فردوس شمیم نقوی کے استعفے کے بعد پی ٹی آئی میں تنظیمی معاملات اور قیادت کے درمیان اختلافات ایک بار پھر زیر بحث آگئے ہیں، تاہم فردوس شمیم نقوی نے واضح کیا ہے کہ ان کا فیصلہ کسی ناراضی یا اختلاف کا نتیجہ نہیں۔



















































