اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی فی من قیمت 4500 روپے مقرر کر دی ہے۔
اس فیصلے کا مقصد کسانوں کو گندم کی کاشت کی جانب راغب کرنا، ان کی آمدن میں بہتری لانا اور صوبے میں زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔محکمہ زراعت کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گندم کی قیمت کے تعین کے حوالے سے عملی قدم اٹھایا ہے۔ حکومتی سطح پر اس فیصلے کو کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی اور زرعی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔محکمہ زراعت کا کہنا ہے کہ گندم پاکستان کی بنیادی غذائی فصل ہے، جو ملک کی خوراک کی ضروریات پوری کرنے اور زرعی خودکفالت کے حصول میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ملکی مجموعی پیداوار میں پنجاب کا حصہ نمایاں ہے، جہاں سے پاکستان کی تقریباً 76 فیصد گندم حاصل ہوتی ہے۔
حکام کے مطابق گندم کی قیمت کا بروقت اعلان ہونے سے کاشتکاروں کو اپنی فصل کے حوالے سے مالی اور زرعی منصوبہ بندی کرنے میں آسانی ہوگی۔ اس اقدام سے کسانوں کے اعتماد میں اضافے اور ان کی معاشی حالت بہتر بنانے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔محکمہ زراعت نے مزید واضح کیا کہ ملک میں گندم کی مناسب مقدار میں پیداوار غذائی تحفظ برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ کسانوں کو پیداوار بڑھانے کی ترغیب دی جائے اور ملکی ضروریات کے مطابق گندم کی مسلسل دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔



















































