اسلام آباد (نیوز ڈیسک) یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور دیگر اہم تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کے دعووں نے مشرق وسطیٰ کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہ تحریک اب صرف یمن کی اندرونی سیاست تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کی سرگرمیاں سعودی عرب کی سلامتی، ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور عالمی بحری تجارت سے بھی جڑ چکی ہیں۔
حوثیوں کے سعودی عرب کے ساتھ تنازعات اور ایران سے ان کے تعلقات کو سمجھے بغیر خطے میں جاری کشیدگی کے کئی اہم پہلوؤں کا جائزہ لینا مشکل ہے۔ اس گروہ کا سیاسی اور عسکری کردار گزشتہ دو دہائیوں میں نمایاں طور پر تبدیل ہوا ہے۔
حوثی تحریک کا آغاز کیسے ہوا؟
حوثی تحریک کی ابتدا یمن کے شمالی صوبے صعدہ میں ہوئی، جہاں 1990 کی دہائی کے دوران زیدی شیعہ مذہبی شناخت اور ثقافتی روایات کے تحفظ کے لیے ایک تحریک سامنے آئی۔ اس جماعت کو حوثی خاندان کی نسبت سے یہ نام دیا گیا، تاہم اس کا باضابطہ نام انصار اللہ ہے۔
زیدیت، شیعہ اسلام کی ایک شاخ ہے جس کی یمن میں طویل تاریخی جڑیں ہیں۔ تحریک کو نمایاں کرنے والوں میں حسین بدرالدین الحوثی اہم شخصیت تھے۔ انہوں نے مذہبی سرگرمیوں کے ساتھ شمالی یمن میں زیدی آبادی کی شکایات اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو بھی اپنی جدوجہد کا حصہ بنایا۔
2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بعد حسین الحوثی کے بیانات میں امریکی پالیسیوں کی مخالفت زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اگلے سال، 2004 میں، یمنی حکومت اور حوثیوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہوا۔ اسی سال حسین الحوثی مارے گئے، جس کے بعد ان کے بھائی عبدالملک الحوثی نے تحریک کی قیادت سنبھال لی۔
یمنی فوج کے ساتھ مسلسل لڑائی نے حوثیوں کو وقت کے ساتھ ایک منظم مسلح قوت میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران گروہ نے شمالی یمن میں اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھایا۔
صنعا پر قبضہ اور سعودی قیادت میں فوجی کارروائی
2011 میں عرب دنیا میں حکومت مخالف احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں یمن کے طویل عرصے تک صدر رہنے والے علی عبداللہ صالح کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ان کے بعد عبدالربہ منصور ہادی کی قیادت میں سیاسی انتقالِ اقتدار کا عمل شروع ہوا، لیکن ملک میں سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات اور بدامنی برقرار رہی۔
حوثیوں نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو دارالحکومت چھوڑنا پڑا اور ملک میں اقتدار کی کشمکش مزید شدت اختیار کرگئی۔
مارچ 2015 میں سعودی عرب نے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر حوثیوں کے خلاف فوجی مہم شروع کی۔ اس کارروائی کا مقصد حوثیوں کی پیش قدمی روکنا اور منصور ہادی کی حکومت کو بحال کرنا تھا۔
تاہم، برسوں کی فضائی بمباری اور زمینی لڑائی کے باوجود سعودی قیادت میں قائم اتحاد حوثیوں کو شمال مغربی یمن کے ان کے مضبوط ٹھکانوں سے مکمل طور پر بے دخل نہ کرسکا۔ طویل تنازع نے یمن میں سنگین انسانی بحران کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان، لوگوں کی نقل مکانی اور خوراک، علاج معالجے سمیت بنیادی سہولتوں کی قلت جیسے مسائل پیدا ہوئے۔
اقوام متحدہ کی کوششوں سے 2022 میں جنگ بندی ہوئی، جس کے بعد لڑائی میں نسبتاً کمی آئی، لیکن تنازع کے مستقل سیاسی حل پر اتفاق نہ ہوسکا۔ اکتوبر 2026 میں تازہ حملوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی جوابی کارروائیوں سے متعلق اطلاعات نے ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا کیے ہیں۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان دشمنی کی وجوہات
حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان تنازع کی بنیادی وجوہات میں یمن کے اقتدار کی جنگ، سرحدی سلامتی اور مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب کی رقابت شامل ہیں۔
سعودی قیادت کو خدشہ رہا ہے کہ یمن میں حوثیوں کی مضبوط پوزیشن سے ایرانی اثر و رسوخ اس کی جنوبی سرحد تک پھیل سکتا ہے۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی قیادت میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے خلاف مزاحمت کو اپنی سیاسی اور عسکری حکمت عملی کا اہم حصہ بنایا۔
اس طویل لڑائی کے دوران حوثیوں نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے سعودی تیل کی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت پیدا کی۔ اس طرح یمن کا تنازع دونوں ممالک کی سرحدی سلامتی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا۔
ایران سے تعلقات: مذہبی وابستگی یا مشترکہ مفادات؟
ایران کو حوثیوں کا اہم علاقائی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ تہران اس تحریک کو مشرق وسطیٰ میں اپنے مخالفین کے مقابل مزاحمتی قوتوں کے وسیع تر اتحاد کا حصہ قرار دیتا ہے۔ اس اتحاد کے تناظر میں لبنان کی حزب اللہ اور عراق کے بعض مسلح گروہوں کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔
امریکا اور دیگر ممالک ایران پر حوثیوں کو ہتھیار، تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں اضافے کو بھی بعض مبصرین ایرانی معاونت سے جوڑتے ہیں، تاہم ان ہتھیاروں کی تیاری، حصول اور بیرونی مدد کی مکمل تفصیلات ہر معاملے میں واضح نہیں۔
حوثی قیادت خود کو ایران کے تابع گروہ کے طور پر پیش نہیں کرتی اور اپنے مقامی سیاسی و قومی مقاصد پر زور دیتی ہے۔ مذہبی اعتبار سے بھی حوثیوں کی زیدی روایت ایران میں رائج اثنا عشری شیعہ مذہب سے مختلف ہے۔
اسی لیے ایران اور حوثیوں کے تعلقات کو صرف مذہبی ہم آہنگی کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ علاقائی طاقت کی کشمکش، مشترکہ مخالفین اور تزویراتی مفادات بھی ان روابط کو سمجھنے کے لیے اہم عوامل ہیں۔
بحیرہ احمر میں حملے اور عالمی تجارت پر اثرات
نومبر 2023 میں غزہ کی جنگ کے دوران حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ تحریک نے ان کارروائیوں کو فلسطینیوں کی حمایت سے منسلک کیا۔
ان حملوں اور بحری جہازوں کو درپیش خطرات کے باعث متعدد بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے راستے تبدیل کیے۔ طویل متبادل راستوں کے نتیجے میں سفر کا دورانیہ اور ایندھن کے اخراجات بڑھنے کے ساتھ عالمی تجارت کی لاگت میں اضافے کے خدشات بھی پیدا ہوئے۔
یمن کی جغرافیائی اہمیت اس معاملے کو مزید حساس بناتی ہے۔ ملک کے قریب واقع آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے ملاتی ہے۔ یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔
ستمبر 2026 میں جزیرہ میون، جسے پریم بھی کہا جاتا ہے، اور ساحلی شہر المخا پر حوثیوں کے قبضے سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔ اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ پیش رفت باب المندب میں بحری آمدورفت کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران بحیرہ احمر کا راستہ سعودی عرب کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ اپنی تیل کی بعض برآمدات کے لیے اس راہداری سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ چنانچہ باب المندب میں عدم استحکام سعودی عرب سمیت خطے کے دوسرے ممالک کے لیے بھی اضافی خطرات پیدا کرسکتا ہے۔
حوثیوں کی عسکری صلاحیت اور سعودی دفاع کو درپیش چیلنج
حوثی تحریک کی عسکری طاقت کا ایک اہم پہلو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال ہے۔ یمن کے پہاڑی علاقوں میں مضبوط ٹھکانے، دشوار گزار جغرافیہ اور مختلف ہتھیاروں کا بیک وقت استعمال اس گروہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کو پیچیدہ بناتے ہیں۔
اکتوبر 2026 میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور دیگر سعودی تنصیبات پر حملوں سے متعلق دعووں کے بعد سعودی دفاعی نظام کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
حوثیوں نے بعض میزائلوں اور ڈرونز کے اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے، جبکہ سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے ریاض کی جانب داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو روکنے کا اعلان کیا۔ ان دعووں کی آزادانہ تصدیق کے بغیر حملوں کے حقیقی نتائج یا نقصانات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ میں حوثیوں کا بڑھتا ہوا کردار
حوثیوں کی تازہ عسکری سرگرمیوں سے متعلق اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور یمن میں فوجی کارروائیوں کے باعث مشرق وسطیٰ کی صورت حال غیر یقینی کا شکار ہے۔
موجودہ حالات میں حوثی تحریک کا کردار یمن کی خانہ جنگی سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے۔ اس کے میزائل اور ڈرون حملے سعودی عرب کی سلامتی، توانائی کی تنصیبات اور عالمی بحری راستوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم، خطے میں کشیدگی کے مستقبل کا انحصار صرف حوثیوں کی عسکری حکمت عملی پر نہیں ہوگا، بلکہ ایران، سعودی عرب، امریکا، اسرائیل اور یمن کے مختلف سیاسی فریقوں کے اقدامات بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ مستقل استحکام کے لیے فوجی کارروائیوں کے ساتھ سیاسی مذاکرات اور یمن کے تنازع کے دیرپا حل کی کوششیں بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔



















































