نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے لیے مفت نہیں ہے‘ آپ ماہانہ 10300 یا 5300 روپے ادا کر کے ہمارے مستقل واٹس ایپ گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں جہاں آپ کو جاوید چودھری کے کالم وقت سے پہلے اور اشتہارات کے بغیر ملیں گے‘ ہمارا واٹس ایپ گروپ ایکٹو ہو چکا ہے‘آپ اس میں شامل ہونے کے لیے موبائل نمبر 5362221 92332+پر امجد خلیفہ سے رابطہ کر سکتے ہیں لیکن آپ اگر مستقل ممبر نہیں بننا چاہتے تو بھی آپ کو اخلاقی طور پر اس تحریر کی کچھ نہ کچھ پے منٹ ضرور کرنی چاہیے‘ آپ خود اس تحریر کی قیمت کا فیصلہ کر کے اپنی رقم 5366774 0310موبائل نمبر پر جمشید خان کو ایزی پیسہ کر سکتے ہیں۔
بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)
بلوچستان کا سب سے بڑا ایشو نوجوان ہیں‘ بلوچ نوجوانوں کے تین مسائل ہیں‘ ایک‘ یہ بلوچ قبائلی ڈی این اے ’’کیری‘‘ کر رہے ہیں اور اس ڈی این اے میں بغاوت‘ جنگ‘ عزت نفس‘ انا اور ضد ہے‘ ہمیں تاریخی حقائق سے اب تک یہ سیکھ لینا چاہیے تھا بلوچ صدیوں سے جنگجو ہیں‘ طاقت سے انہیں کوئی نہیں منوا سکتا‘ یہ عزت اور احترام چاہتے ہیں‘ مغل‘ افغان اور انگریز بھی انہیں طاقت سے فتح نہیں کر سکے تھے‘ وہ بھی انہیں عزت دے کر مذاکرات کی میز تک لے کر آئے تھے‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا یہ قبائلی عصبیت کا شکار ہیں‘ ایک دوسرے سے لڑتے رہتے ہیں لیکن جب باہر سے یلغار ہوتی ہے تو یہ ذاتی اختلافات بھلا کر سب ایک ہو جاتے ہیں‘
بلوچ ذہن زیادہ دور تک نہیں سوچتا‘ اس کی سوچ قریبی یا زیادہ سے زیادہ ایک نسل تک ہوتی ہے‘ یہ ڈی این اے آج کے بلوچ نوجوانوں میں بھی موجود ہے‘ یہ جنگجو ہیں اور زیادہ دور تک نہیں سوچ رہے‘ دوسرا ریاست نے کسی بھی دور میں ان کے بارے میں نہیں سوچا‘ یہ سرداروں کے ساتھ ڈیل کرتی رہی اور سردار عوام کو محروم رکھ کر اپنا الو سیدھا کرتے رہے‘ بلوچ نوجوان اس دوران جب بھی سرداروں یا سیاست دانوں سے اپنے حقوق کے بارے میں پوچھتے تھے تو یہ وفاق یا پنجاب کو ان کی محرومیوں کا ذمہ دار قرار دے دیتے تھے یوں نوجوان وفاق سے نفرت کے ساتھ پروان چڑھتے رہے یہاں یہ امر بھی کم دل چسپ نہیں بلوچ نوجوان پنجاب کو وفاق سمجھتے ہیں ‘ ان کا خیال ہے پنجاب کی خوش حالی کے پیچھے بلوچی وسائل ہیں‘ یہ صرف سوچ نہیں ہے یہ ان کا یقین بھی ہے اور ان کا تیسرا مسئلہ بلوچستان میں تعلیم اور سوشل میڈیا سے سٹارٹ ہوا‘ حکومت کو اچانک بلوچ نوجوانوں کی پس ماندگی نظر آئی اور اس نے اس کا حل تعلیم کی شکل میں نکالا‘ ریاست کا خیال تھا ہم اگر نوجوانوں کو تعلیم دے دیں تو یہ سوچنا شروع کر دیں گے‘ یہ جب سوچیں گے تو یہ تجزیہ کریں گے اور جب تجزیہ کریں گے تو یہ اپنی پس ماندگی کی وجوہات تک پہنچ جائیں گے اور یوں مسئلہ حل ہو جائے گا‘ یہ بھی سوچا گیا بلوچ نوجوان جب تعلیم کے بعد سندھ اور پنجاب میں نوکریاں کریں گے تو یہ زندگی کے مرکزی دھارے میں شامل ہو جائیں گے‘ یہ دونوں سوچیں غلط نہیں تھیں‘ دنیا کے ہر مسئلے کا حل بہرحال تعلیم اور روزگار میں ہوتا ہے لیکن ریاست نے یہاں دو غلطیاں کیں‘ اس نے بلوچوں کو تاخیر سے تعلیم دینا شروع کی‘ یہ سلسلہ اگر ڈیجیٹل ایج سے قبل 1990ء کی دہائی میں شروع ہو جاتا تو آج شاید صورت حال مختلف ہوتی اور دوسرا یہ جنرل ایجوکیشن میں چلی گئی اور یہ بھول گئی بلوچستان میں نوکریاں کہاں سے آئیں گی‘ حکومت کو چاہیے تھا یہ مائننگ‘ باغ بانی‘ سول انجینئرنگ اور آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن جیسے شعبوں پر فوکس کرتی‘ یہ زیادہ تر بلوچ نوجوانوں کو ان شعبوں میں تعلیم اور تربیت دیتی‘ اس کا یہ فائدہ ہوتا نوجوان تعلیم کے بعد روزگار حاصل کر لیتے یا اپنے کاروبار کے قابل ہو جاتے‘
ریاست کی غلط تعلیمی اپروچ کی وجہ سے آج حالت یہ ہے بلوچستان کی یونیورسٹیوں سے ہر سال ہزاروں طالب گریجوایشن اورپوسٹ گریجوایشن کرتے ہیں اور ڈگریاں ہاتھ میں اٹھا کر نوکریاں تلاش کرتے رہتے ہیں جب کہ سڑکیں‘ پل اور ڈیم بنانے کے لیے ماہرین اور ورکرز پنجاب اور سندھ سے آتے ہیں‘ بلوچستان میں کان کن‘ موٹر مکینک‘ پلمبرز‘ الیکٹریشن حتیٰ کہ حجام‘ تندورچی اور ٹرک ڈرائیور بھی سندھی اور پنجابی ہیں‘ مجھے ایک سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا میں وزیر اعلیٰ بنا تو بجٹ بنانے کا وقت آگیا‘مجھے اس وقت پتا چلا پورے بلوچستان میں بجٹ بنانے کا ایک بھی ایکسپرٹ موجود نہیں‘ میں نے وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کی‘ انہوں نے کراچی سے ایک ماہر بھجوایا اور یوں ہم بجٹ بنانے کے قابل ہوئے‘آپ شاید یہ جان کر حیران ہوں گے بلوچستان میں ہر سال چھ لاکھ ایکڑ رقبے پر کپاس کاشت ہوتی ہے لیکن کپاس چننے کے لیے ورکرز سندھ سے آتے ہیں‘ بلوچ کپاس تک نہیں چن سکتے‘ پنج گور‘ تربت اور واشک میں دنیا کی بہترین کھجوریں پیدا ہوتی ہیں‘ یہ100 ارب روپے کی انڈسٹری ہے لیکن 99 ارب روپے کی کھجوریں درختوں پر لٹکی لٹکی ضائع ہو جاتی ہیں‘ باقی ایک ارب کی کھجوریں ایران جاتی ہیں اور وہاں سے پیک ہو کر دس گنا قیمت پر پاکستان واپس آ جاتی ہیں‘ بلوچستان کے پاس فیشریز اور سی فوڈ کا دنیا کا بہترین خزانہ ہے‘ جاپان اور کوریا کے مچھیرے پاکستانی پانیوں سے مچھلیاں پکڑتے ہیں لیکن بلوچ نوجوان اس فیلڈ سے بھی دور ہیں‘ بلوچستان میں دنیا کا بہترین اور منفرد سیب(شین کلو) اور منفرد قسم کی چیریز پیدا ہوتی ہیں‘ ڈرائی فروٹ بھی انتہائی لذیز اور مزے دار ہوتے ہیں‘ صوبے میں سیاحت کا بھی بہت پوٹینشل ہے‘ عربی شہزادے ہر سال شکار کے لیے بلوچستان آتے ہیں‘ اسی طرح لورا لائی میں بہترین زیتون کاشت ہوتا ہے‘ یہ پھل بھی ضائع ہو جاتا ہے جب کہ ہزاروں ایکڑ پر زیتون کے نئے درخت بھی لگائے جا سکتے ہیں‘ حکومت اگر بلوچ نوجوانوں کو فشریز‘ مائننگ‘ باغ بانی اور زراعت اور سیاحت کی تعلیم دیتی تو یہ اپنا کاروبارشروع کر سکتے تھے اور انہیں نوکریاں بھی مل سکتی تھیں اور بلوچ نوجوانوں کے لیے تیسرا مسئلہ سوشل میڈیا ثابت ہوا‘ 2000ء کے بعد موبائل فون اور 2010ء کے بعد سوشل میڈیا کا بوم آیا اور بلوچ نوجوان چھوٹی سکرین کے ساتھ جڑتے چلے گئے‘ سوشل میڈیا کے الگوردھم کو ان کی نفرت بھانپتے دیر نہیں لگی‘ یہ نفرت اور وفاق سے دوری بہت جلد بھارت اور اسرائیل تک پہنچ گئی اور انہوں نے دور بیٹھ کر ریاست کے خلاف ان کی ذہن سازی شروع کر دی‘ یہ دس بارہ سال کا پراسیس تھا‘ اس پراسیس سے قبل بلوچ نوجوان وفاق اور پنجاب سے صرف نفرت کرتے تھے لیکن انہیں اس کی وجہ معلوم نہیں تھی‘ سوشل میڈیا نے انہیں نفرت کی وجوہات اور دلائل دے دیے لہٰذا اب ان کے پاس اپنی نفرت کے باقاعدہ دلائل بھی ہیں‘ ہمیں آج یہ ماننا ہو گا بلوچستان کے سو فیصد نہیں تو ستر فیصد نوجوان وفاق سے نفرت کرتے ہیں‘ یہ پنجاب اور سندھ کو اپنی محرومی کی بنیاد سمجھتے ہیں‘ یہ اس فوج جس میںہزاروں بلوچ جوان شامل ہیں اور جس کے بلوچ آرمی چیف بھی رہے ہیں یہ اسے پنجابی کہتے ہیں۔
بلوچستان کا نوجوان ریاست سے اس قدر نفرت کرتا ہے کہ یہ بی ایل اے کے خودکش سکواڈ مجید بریگیڈ میں بھی شامل ہورہا ہے‘ پاکستان میں 1995ء سے خودکش حملے ہو رہے ہیں‘ یہ حملہ آور مرد ہوتے تھے‘ بلوچ واحد قوم ہے جس کی نوجوان لڑکیاں مجید بریگیڈ میں شامل ہو ئیں اور انہوں نے خودکش حملے شروع کر دیے‘ مجید بریگیڈ 2010ء میں اسلم بلوچ نام کے ایک نوجوان نے بنایا تھا‘ وہ کوئٹہ کا رہنے والا تھا‘ وہ جوانی میں آزاد بلوچستان تحریک کا حصہ بنا‘ بھارت تک پہنچا‘ را نے اسے ٹریننگ دی اور اس نے بلوچستان کا پہلا خودکش سکواڈ بنا لیا‘ مجید بریگیڈ کا نام ذوالفقار علی بھٹو کے باڈی گارڈ مجید لانگو کے نام پر رکھا گیا‘ مجید لانگو نے 1974ء میں بلوچستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بھٹو صاحب پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ بنایا تھا‘ وہ وزیراعظم پر گرنیڈ پھینکنا چاہتا تھا لیکن گرنیڈ اس کے ہاتھ میں پھٹ گیا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا‘ اسلم بلوچ نے 36 سال بعد اس کے نام پر مجید بریگیڈ بنا دیا‘ مجید بریگیڈ نے دسمبر 2011ء میں شفیق مینگل پر خودکش حملہ کر کے اپنی کارروائیاں شروع کیں‘ اس حملے میں شفیق مینگل بچ گیا لیکن 13 لوگ مارے گئے‘ مجید بریگیڈ کا ٹارگٹ ملٹری بیس‘ حکومت کی عمارتیں اور بلوچستان میں کام کرنے والے چینی ورکرز ہیں‘ آپ یہاں یہ جان کر حیران ہوں گے اسلم بلوچ 25 دسمبر 2018ء کو قندہار میں خودکش حملے میں مار اگیا لیکن اس کا بریگیڈ آج تک چل رہا ہے‘ کیسے اور کیوں؟ اسے دراصل اسرائیل اور انڈیا چلا رہے ہیں‘ مجید بریگیڈ نے 2020ء میں کراچی سٹاک ایکسچینج کی عمارت‘ اپریل 2022ء میں کراچی یونیورسٹی‘اگست 2023ء میں چینی انجینئرز‘اکتوبر 2024ء میں کراچی ائیر پورٹ اور مارچ 2025ء میں جعفر ایکسپریس کو نشانہ بنایا‘ یہ بریگیڈ 2018ء سے 2024ء تک 18 خود کش حملے کر چکا ہے اور اس میں سو سے ڈیڑھ سو تک خود کش حملہ آور موجود ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں‘
یہ لوگ جوان بچیوں کو ہنی ٹریپ کر کے اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں‘ بعض خواتین رضا کارانہ طور پر بھی ان میں شامل ہو جاتی ہیں‘ یہ پہاڑوں میں جاتی ہیں‘ بری طرح ’’بے عزت‘‘ ہوتی ہیں اور آخر میں کسی نہ کسی خود کش حملے کا رزق بن جاتی ہیں‘ پاکستان کے خفیہ اداروں نے درجنوں ایسی بچیوں کو بچایا جو مجید بریگیڈ کے چنگل میں پھنس گئی تھیں‘بلوچ نوجوانوں کی دوسری تحریک بی وائے سی (بلوچ یکجہتی کمیٹی) ہے‘ یہ 2020ء میں ماہ رنگ بلوچ اورصبغت اللہ شاہ جی نے بنائی‘ دنیا بھر کے پاکستان مخالف ادارے اب تک اسے پانچ ارب روپے فنڈ دے چکے ہیں‘ کیوں؟ آپ خود سمجھ دار ہیں‘ آپ یہ جان کر بھی حیران ہوں گے مجید بریگیڈ‘ بی وائے سی اور بی ایل اے کو تائیوان سے بھی رقم ملتی ہے‘ سوال یہ ہے تائیوان کا بلوچستان سے کیا تعلق ہے؟ اس کا بڑا گہرا تعلق ہے‘ تائیوان 1949ء میں چین سے الگ ہوا‘چین 1949ء میں ماؤ زے تنگ کی قیادت میں تائیوان خالی کرنے پر مجبور ہو گیا جس کے بعد ماؤزے تنگ کے حریف اور کومن ٹانگ (کے ایم ٹی) پارٹی کے سربراہ چیانگ کائی شیک تائیوان چلے گئے اورتائیوان میںآزاد حکومت قائم کر لی‘ تائیوان کی حکومت خود کو سرکاری طور پر جمہوریہ چین کہتی ہے جب کہ چین کا سرکاری نام عوامی جمہوریہ چین ہے یوں دنیا میں دو چین ہیں‘ ایک چینیوں کا ملک چین اور دوسرا تائیوان چین‘ ان دونوں کے درمیان آبنائے تائیوان ہے جو تائیوان کو چین سے الگ کرتی ہے‘تائیوان میں جمہوری حکومت ہے اور اس کی آبادی تقریباً 23 ملین ہے۔یہ خود کو آزاد ملک کہتا ہے اور امریکا سمیت 99 فیصد دنیا اسے آزاد تسلیم کرتی ہے جب کہ چین اسے اپنا صوبہ سمجھتا ہے اور اسے اپنے ساتھ واپس ملانا چاہتا ہے‘ دوسرا امریکا‘ جاپان‘ آسٹریلیا اور یورپی ممالک اسے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں‘ یہ جنگ نہ صرف 70 برس سے جاری ہے بلکہ یہ چلتی چلتی بلوچستان تک پہنچ چکی ہے‘ تائیوان بلوچ علیحدگی پسندوں کو رقوم بھجواتا ہے تاکہ بلوچ بلوچستان میں کام کرنے والے چینیوں کو نشانہ بناتے رہیں‘ آپ اس سے مسئلے کے دائرہ کار کا اندازہ کر لیجیے۔
ہم اب آتے ہیں بلوچستان کے سب سے بڑے اور اہم ایشو کی طرف اور وہ ہے ریاست‘ دنیا میں کروڑوں مخلوقات ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے صرف انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا‘ کیوں؟ کیوں کہ انسان میں اپنی غلطیوں کے ادراک اور ان کے تدارک کی خوبی موجود ہے‘ ہم انسان غلطیاں کرتے ہیں‘ ان کا تجزیہ کرتے ہیں‘ غلطیوں کا ڈیٹا بناتے ہیں اور پھر اپنی اصلاح کر کے مستقبل کی پلاننگ کرتے ہیں‘ ہم پاکستانی بھی اگر انسان ہیں تو پھر ہمیں بھی اشرف المخلوقات کے اس پیٹرن پر جانا ہوگا لیکن اس سے پہلے اپنی غلطیوں کی نشان دہی اور ان کا اعتراف ضروری ہے اور ریاست کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔(جاری ہے)



















































