اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سردیوں کی آمد سے قبل گیس کی فراہمی کے حوالے سے حکومت نے تیاریاں شروع کردیں،
وزیراعظم شہباز شریف نے گھریلو صارفین کو ترجیح دینے اور لوڈ مینجمنٹ کا جامع منصوبہ مرتب کرنے کی ہدایت کردی۔موسم سرما میں گیس کی طلب میں اضافے کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں آئندہ سردیوں کے لیے گیس سپلائی اور لوڈ مینجمنٹ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، احد چیمہ، علی پرویز ملک اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ گیس کی طلب و رسد کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سے ضروری اقدامات مکمل کیے جائیں اور مقامی گیس کی دستیاب مقدار میں گھریلو صارفین کو اولین ترجیح دی جائے۔شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو گیس لوڈ مینجمنٹ سے متعلق عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے مؤثر مہم چلانے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے موجودہ علاقائی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گیس کی درآمد کا عمل بلا تعطل جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں حکام کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بجلی پیدا کرنے والے شعبے اور صنعتی صارفین کے لیے آر ایل این جی کو ترجیحی بنیادوں پر استعمال کیا جائے گا، جبکہ گھریلو صارفین کے لیے مقامی گیس کے متبادل ذرائع کو فروغ دینے کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔حکام نے بتایا کہ ملک کے شمالی علاقوں میں موجود گیس کے ذخائر سے سپلائی کو بلا رکاوٹ برقرار رکھنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی گرم کرنے اور گھروں کو گرم رکھنے کے لیے بینک فنانسنگ کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ حکومت دسمبر سے فروری تک کے عرصے کے لیے ایل این جی درآمد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ گیس کمپنیوں اور پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے کم از کم 22 ایل این جی کارگوز کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے، تاہم توانائی ٹاسک فورس نے علاقائی توانائی راستوں میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر 10 سے 12 کارگوز درآمد کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا ہے۔



















































