اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اڈیالہ جیل میں 10 اگست کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے کیے گئے طبی معائنے سے متعلق رپورٹ سامنے آگئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کے طبی معائنے کے لیے چار رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا، جس میں ڈاکٹر فرقاد عالمگیر، ڈاکٹر عارف خان، ڈاکٹر اختر علی بندیشہ اور ڈاکٹر علی عارف شامل تھے۔ علاج اور طبی معائنے کے سلسلے میں لندن سے ڈاکٹر فرقاد عالمگیر کو بھی اڈیالہ جیل بلایا گیا تھا۔میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی انزائٹی کی سطح کو تھری پلس قرار دیا، جبکہ بلڈ پریشر اور ذہنی دباؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ ایک گھنٹے واک کرنے کی تجویز دی گئی۔رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی کو اہل خانہ سے ملاقات کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ اخبار، ٹی وی اور کتابیں مہیا کرنے کی سفارش بھی کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ میڈیکل بورڈ نے عمران خان کی اہلیہ سے ملاقاتوں کی تعداد میں اضافے کی تجویز بھی دی۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فرقاد عالمگیر نے عمران خان کے بلڈ پریشر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا میں بھی تبدیلی کی تھی، جبکہ اڈیالہ جیل میں ان کی آمد سے متعلق پارٹی قیادت اور عمران خان کے اہل خانہ کو آگاہ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ڈاکٹر فرقاد عالمگیر کا نام عمران خان کے علاج کے حوالے سے ہونے والے حالیہ مذاکراتی عمل میں بھی سامنے آچکا ہے۔عمران خان کے طبی معائنے کے لیے یہ میڈیکل بورڈ وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دیا گیا تھا، جبکہ بورڈ کی طبی رپورٹ اڈیالہ جیل انتظامیہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں بھی جمع کرائی گئی تھی۔




















































