اسلام آباد(نیوز ڈیسک) موبائل صارفین کے لیے ایک اور تشویش کی خبر سامنے آگئی، ٹیلی کام کمپنیوں کے پیکجز کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ’’ٹیلی کمیونیکیشن کمپٹیشن رولز 2026‘‘ کا مجوزہ مسودہ تیار کرلیا ہے، جس کے تحت پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ٹیلی کام مارکیٹ کی نگرانی سے متعلق اختیارات میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قواعد کے مطابق پی ٹی اے کو وقتاً فوقتاً ٹیلی کام مارکیٹ کا جائزہ لینے اور ضرورت کے مطابق اس کی حدود ازسرِنو متعین کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ مارکیٹ کا تعین کرتے وقت صارفین کی طلب، دستیاب متبادل سہولیات، قیمتوں کے رجحانات اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی پیش رفت کو مدنظر رکھا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت ریگولیٹر ان عوامل کی روشنی میں مختلف ٹیلی کام کمپنیوں کے درمیان مسابقت، مارکیٹ کی صورتحال اور قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لے سکے گا۔
موبائل پیکجز پہلے ہی کتنے مہنگے ہوچکے ہیں؟
سرکاری دستاویزات اور پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق جون 2025 سے جون 2026 تک جاز، ٹیلینار، زونگ اور یوفون کے 10 اہم سبسکرائبر پیکجز کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ایک سال کے دوران ان پیکجز کی قیمتوں میں اوسطاً 12 سے 22 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب پی ٹی اے نے ان دعوؤں کو مسترد کیا ہے کہ موبائل کمپنیاں ہر ماہ 10 سے 20 فیصد تک اپنے پیکجز مہنگے کر رہی ہیں۔ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ سالانہ بنیاد پر ہونے والا اضافہ ماہانہ حساب سے تقریباً ایک سے دو فیصد بنتا ہے۔
نئے قواعد نافذ ہوئے تو صارفین پر کیا اثر ہوگا؟
مجوزہ قواعد پر عمل درآمد کی صورت میں ٹیلی کام کمپنیوں کے مختلف پیکجز کی درجہ بندی اور قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں تبدیلی آسکتی ہے، جس کے باعث موبائل ڈیٹا، کال اور ایس ایم ایس سروسز کے پیکجز مزید مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
تاہم یہ بات اہم ہے کہ ’’ٹیلی کمیونیکیشن کمپٹیشن رولز 2026‘‘ فی الحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکے اور ابھی مجوزہ مرحلے میں ہیں۔ اس لیے موبائل پیکجز کی قیمتوں میں مزید اضافے کے حوالے سے اس وقت کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔



















































