اسلام آباد(نیوز ڈیسک) روزانہ کی مختصر چہل قدمی آنتوں کی کارکردگی بہتر بنانے اور قبض کے مسئلے سے نجات میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے،
جاپانی تحقیق میں اہم بات سامنے آگئی۔قبض نظامِ ہاضمہ سے متعلق ایک عام شکایت ہے جو بچوں سے لے کر بڑی عمر کے افراد تک کسی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔ اس کے باعث پیٹ میں پھولاؤ، بے آرامی اور آنتوں کی معمول کی کارکردگی متاثر ہونے جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جبکہ طویل عرصے تک قبض برقرار رہنے کی صورت میں دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر قبض مستقل مسئلہ بن جائے تو اسے نظر انداز کرنے کے بجائے اس کی وجوہات پر توجہ دینا ضروری ہے۔ نظامِ ہاضمہ کو فعال رکھنے کے لیے جسمانی سرگرمی کو معمول کا حصہ بنانا بھی مفید ثابت ہوسکتا ہے۔جاپان کی فوجیتا ہیلتھ یونیورسٹی میں ہونے والی ایک تحقیق میں جسمانی سرگرمی اور آنتوں کے افعال کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ چہل قدمی بالغ افراد میں آنتوں کی حرکت کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔تحقیق میں 21 صحت مند بالغ افراد کو شامل کیا گیا۔
ابتدا میں خصوصی آلات کی مدد سے شرکا کے آنتوں کے افعال کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد انہیں 20 منٹ تک ٹریڈ مل پر چلنے کے لیے کہا گیا۔چہل قدمی مکمل ہونے کے بعد شرکا کے آنتوں کے افعال دوبارہ جانچے گئے تو ان میں واضح بہتری ریکارڈ کی گئی۔ محققین نے یہ عمل متعدد مرتبہ دہرایا اور ہر بار واک کے بعد آنتوں کی سرگرمی میں بہتری دیکھی گئی۔تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ چہل قدمی ختم کرنے کے فوراً بعد بھی آنتوں کے افعال میں مثبت تبدیلی دیکھی گئی۔
اس بنیاد پر محققین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے واک کرنا قبض کے مسئلے سے بچاؤ یا اس کی شدت کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔محققین کے مطابق جسمانی حرکت آنتوں کی سرگرمی کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ اعصابی نظام کو بھی فعال کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ہاضمے سمیت جسم کے مختلف افعال کو معمول پر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے سائنٹیفک رپورٹس میں شائع کیے گئے۔



















































