بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

اپنی چھت اپنا گھر اسکیم میں کتنے گھر مکمل ہوگئے؟ تازہ اعداد و شمار سامنے آگئے

datetime 30  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)پنجاب حکومت کے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام میں گھر بنانے کے لیے قرض حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کی درخواستوں کی تعداد 16 لاکھ سے تجاوز کرگئی،

تاہم رواں سال صرف 3 لاکھ درخواست گزاروں کو قرض فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پروگرام کے تحت بڑی تعداد میں خاندانوں نے قرض کے حصول کے لیے آن لائن درخواستیں جمع کرائیں، جن میں سے لاکھوں درخواست گزار تاحال انتظار کے مرحلے میں ہیں۔ محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق موجودہ درخواستوں کی تعداد 16 لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے۔

محکمہ ہاؤسنگ کے اعداد و شمار کے مطابق 13 لاکھ سے زائد درخواست گزاروں کو مزید انتظار کرنا ہوگا، کیونکہ رواں سال قرض فراہم کرنے کے لیے 3 لاکھ درخواست گزاروں کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اب تک 2 لاکھ 15 ہزار خاندانوں کے لیے مجموعی طور پر 273 ارب روپے کے قرضے منظور کیے جاچکے ہیں۔ منظور شدہ قرضوں کے ذریعے ہزاروں خاندانوں نے اپنے گھروں کی تعمیر کا عمل مکمل کیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق قرض کی رقم سے اب تک 1 لاکھ 22 ہزار گھر مکمل کیے جاچکے ہیں، جبکہ 57 ہزار 500 گھر زیر تعمیر ہیں۔ اس طرح پروگرام کے تحت منظور ہونے والے قرضوں سے بڑی تعداد میں خاندانوں کو گھر کی تعمیر مکمل کرنے یا اسے آگے بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔

پروگرام کے تحت درخواست دینے والے خاندانوں کی بڑی تعداد کے باعث تمام درخواست گزاروں کو ایک ہی مرحلے میں قرض فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ محکمہ ہاؤسنگ کے مطابق رواں سال مقررہ ہدف کے تحت قرض کی فراہمی کا عمل جاری رہے گا، جبکہ دیگر درخواست گزاروں کو مزید انتظار کرنا ہوگا۔

اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت قرض حاصل کرنے کے لیے جمع کرائی گئی درخواستوں کی تعداد 16 لاکھ سے تجاوز کرنا اس منصوبے میں شہریوں کی بڑی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ منظور شدہ قرضوں سے مکمل اور زیر تعمیر گھروں کی تعداد بھی پروگرام کی پیش رفت کو ظاہر کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…