منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

مریضوں کے لیے بڑی خوشخبری، کینسر اور امراض قلب سمیت 35 اہم ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کی منظوری

datetime 29  ستمبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے 35نئی جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں کے تعین کی حتمی منظوری دے دی جبکہ مزید 45 ادویات کی منظوری بھی جلد متوقع ہے۔

اس منظوری کے بعد پاکستان میں کینسر، امراضِ قلب، ٹائیفائیڈ اور مختلف ویکسینز سمیت جدید ضروری ادویات کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گئی۔نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی پی ایم اے) نے کہاکہ ادویات کی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن رواں ہفتے جاری ہونے کی توقع ہے۔وزیر صحت سید مصطفی کمال نے یہ معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھایا اور وفاقی کابینہ سمیت وزیراعظم شہباز شریف کو ان ادویات کی فوری دستیابی کی اہمیت سے آگاہ کیا۔وزیراعظم کو بتایا گیا کہ قیمتوں کی منظوری میں تاخیر سے نہ صرف سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے بلکہ مریضوں کی زندگیاں بھی خطرے میں ہیں۔ اس فیصلے سے ان اہم علاج معالجے کی سہولیات تک رسائی ممکن ہو سکے گی جو طویل عرصے سے قیمتوں کے تعین نہ ہونے کی وجہ سے دستیاب نہیں تھیں۔

ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (ڈریپ)اور وفاقی وزارت صحت نے بھی نئی ادویات کی قیمتوں کے نوٹیفکیشن کی حکومتی منظوری کی تصدیق کی ہے۔پی پی ایم اے کے سینئر وائس چیئرمین کامران ناصر نے بھی پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مزید 45 جدید ادویات کی قیمتوں کی منظوری کا عمل جاری ہے۔سابق چیئرمین پی پی ایم اے توقیر الحق کے مطابق منظور شدہ ادویات سے کینسر، امراض قلب، ٹائیفائیڈ اور دیگر بیماریوں کے مریضوں کو جدید علاج کی سہولت مل سکے گی۔

ان کے مطابق قیمتوں کی منظوری میں تاخیر کے باعث بعض ادویات بیرون ملک سے پاکستان میں ان قیمتوں سے 10 گنا زیادہ قیمت پر درآمد کی جارہی تھیں جب کہ اب یہ ادویات ملک میں کم قیمت پر دستیاب ہوسکیں گی۔منظور شدہ ادویات میں کینسر اور دل کے امراض کی ادویات کے علاوہ ٹائیفائیڈ، پولیو اور نمونیا کی ویکسین، کوایگولیشن فیکٹر 8، ریبیز امیونوگلوبیولن اور سیماگلوٹائیڈ سمیت دیگر اہم علاج شامل ہیں۔پی پی ایم اے کے مطابق قیمتوں کی منظوری سے ان ادویات کی پاکستان میں دستیابی بہتر ہونے کے ساتھ مقامی فارماسیوٹیکل صنعت کے لیے انہیں دیگر ممالک کو برآمد کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…