اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 144 کا نفاذ آج سے 5 اکتوبر تک کیلئےکیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی مقامات پر ہتھیار لے جانے اور ان کی نمائش پرپابندی عائد ہوگی، عوامی مقامات، شاہراہوں یا کھلی جگہ پر 5 سے زائدافراد کے اجتماع پرپابندی عائد ہوگی۔
لوگوں کو غیرقانونی اجتماعات میں شرکت کیلئے اکسانے پر بھی پابندی عائد ہے تاہم پابندی کا اطلاق شادی کی تقریبات، نمازجنازہ، تدفین، مساجد و دیگر عبادت گاہوں پر نہیں ہوگا۔
پنجاب حکومت نے صوبے میں قیامِ امن کے مشن کے تحت رینجرز کی خدمات طلب کر لیں۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق رینجرز کے دستوں کی تعیناتی کے لئے وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ جاری کیا گیا ۔ حکومت پنجاب نے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کے لئے مراسلہ لکھا۔ راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کے دستے 5اکتوبر 2026ء تک تعینات ہوں گے۔ راولپنڈی میں رینجرز کی 3کمپنیوں کی تعیناتی کی درخواست کی گئی، اٹک میں رینجرز کے 5ونگز تعینات کرنے کی سفارش کی گئی جبکہ جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی 1، 1کمپنی تعینات ہوگی۔
رینجرز کی تعیناتی کے لئے کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے 59ویں اجلاس میں منظوری دی گئی۔ رینجرز کی تعیناتی آئین پاکستان کے آرٹیکل 245، انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کی دفعات 4اور 5 اور پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959کی دفعات 7(ب)اور 10کے تحت ہوگی۔ وفاقی وزارت داخلہ کو مراسلہ پنجاب پولیس کی درخواست پر سکیورٹی میں معاونت کے لئے لکھا گیا۔ ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔



















































