ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں ہونے والے حملوں میں 80 فیصد خود کش بمبار افغان ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

datetime 19  ستمبر‬‮  2026 |

راولپنڈی (این این آئی) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم سے ایک ہی ٹھوس مطالبہ ہے کہ

وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی روکے، افغانستان سے پاکستان آنے والی ہر تشکیل میں افغان شہری ہوتے ہیں، 80 فیصد خود کش بمبار افغان ہیں، پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہے،سعودی عرب کی سلامتی کیلئے ہمارا عزم غیر مشروط ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے عرب میڈیاکو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان عملی طور پر سعودی عرب کی مدد کیلئے وہاں موجود ہے، ہم سفارتی لحاظ سے بھی ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان حرمین شریفین اور سعودی عرب کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جانے کیلئے تیار ہے،سعودی عرب کی سلامتی کیلئے ہمارا عزم غیر مشروط ہے، یہ عزم ایک جذباتی، دیرینہ، تاریخی اور اٹوٹ رشتے سے جڑا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے پاکستانی عوام سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم سعودی عرب کیخلاف ہونے والی کسی بھی جارحیت کا دفاع کرنے کیلئے تیار ہیں، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اور اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے موجود ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا کہ ان معاہدوں کے تحت وعدوں اور عزم کی پاسداری کی جا رہی ہے، پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت مسلسل سعودی قیادت سے رابطے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایم او یو پاکستان کی مسلسل، انتھک اور انتہائی پرخلوص سفارتکاری کے بعد طے پائی، افغان طالبان رجیم سے ایک ہی ٹھوس مطالبہ ہے وہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کو روکے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا افغانستان سے پاکستان آنے والی ہر تشکیل میں افغان شہری موجود ہوتے ہیں، 80 فیصد کے قریب خود کش بمبار افغان ہیں،افغان طالبان رجیم دوحہ معاہدیکے تحت وعدوں پر عملدرآمد نہیں کرتی تو پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں، دہشت گرد اپنے نظریے کو بندوق کی نوک کے ذریعے مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دہشتگردی کی سرپرستی بھارت کر رہا ہے اور سوشل میڈیا باہر سے چلایا جا رہا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ریاست کی پالیسی بالکل واضح ہے دہشتگردوں کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…