اسلام آباد(نیوزڈیسک )(18 ستمبر 2026) وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم میں عوام کے لیے مزید سہولت متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ قومی اسٹیئرنگ کمیٹی فیول سبسڈی کے اجلاس میں مستحق افراد کے لیے ایندھن کے حصول کا طریقہ کار مزید آسان بنانے کی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں موٹرسائیکل، رکشوں اور گاڑیوں کے لیے ایک مرتبہ میں کم از کم 5 لیٹر ایندھن خریدنے کی شرط ختم کردی گئی ہے۔ نئے طریقہ کار کے تحت اہل افراد کو 500 روپے کا ہفتہ وار ٹوکن فراہم کیا جائے گا، جس کے ذریعے وہ اپنی ضرورت کے مطابق کسی بھی مقدار میں ایندھن حاصل کرسکیں گے۔
کمیٹی نے موٹرسائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں، یعنی رکشوں کے لیے اہلیت کی عمر کی حد بھی تبدیل کردی ہے۔ اب اس اسکیم کے لیے عمر کی حد 15 سال سے بڑھا کر 20 سال کردی گئی ہے۔
اجلاس میں 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے پہلے سے جاری طریقہ کار برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان گاڑیوں کے مالکان کو ہر 10 روز بعد 10 لیٹر ایندھن کا ایک ٹوکن جاری ہوگا، جبکہ ماہانہ بنیاد پر مجموعی طور پر 3 ٹوکن دیے جائیں گے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اجلاس میں واضح کیا کہ 500 روپے کے ٹوکن کی پوری رقم صارف کو ریلیف کی شکل میں منتقل کی جائے گی۔ ان کے مطابق پیٹرول پمپس کو اس رقم میں سے کسی قسم کی کٹوتی یا سروس چارج وصول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
قومی اسٹیئرنگ کمیٹی نے اسکیم کے تحت رجسٹریشن، ٹوکن جاری کرنے اور پیٹرول پمپس کو ادائیگیوں سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی گئی کہ ادائیگیوں کی صورتحال پر مشتمل رپورٹس روزانہ صبح 11 بجے اور شام 7 بجے فراہم کی جائیں۔
اجلاس میں مسترد ہونے والی ادائیگیوں کے حوالے سے بھی فیصلہ کیا گیا کہ ہر ناکام ٹرانزیکشن کی واضح وجہ معلوم کی جائے اور مسئلے کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور دور دراز دیہی علاقوں میں کم یا انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم پیٹرول پمپس کے لیے متبادل انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔
اسحاق ڈار نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ جغرافیائی مشکلات کی وجہ سے کسی بھی اہل اور مستحق شہری کو فیول ریلیف اسکیم سے محروم نہ کیا جائے۔ حکومت کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی فیول ریلیف اسکیم کا بنیادی مقصد کم آمدن اور مستحق افراد کو ایندھن کے اخراجات میں سہولت فراہم کرنا ہے۔



















































