کراچی (نیوز ڈیسک) شہر میں آٹے کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تندوری روٹی بھی مہنگی ہوگئی، جس کے باعث شہریوں کے روزمرہ اخراجات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں نان بائیوں نے روٹی کے نرخ بڑھا دیے ہیں۔ اس اضافے کے بعد جو روٹی پہلے 20 سے 25 روپے میں فروخت کی جارہی تھی، اب اس کی قیمت 30 سے 35 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ آٹا پہلے ہی سرکاری نرخوں پر با آسانی دستیاب نہیں، جبکہ اب روٹی کی قیمت بڑھنے سے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔ بالخصوص محدود آمدنی والے خاندانوں کے لیے روزمرہ کھانے پینے کے اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب تندور مالکان نے نرخ بڑھانے کی وجہ آٹے، ایندھن اور دیگر کاروباری اخراجات میں اضافے کو قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ پیداواری لاگت میں پرانی قیمت پر روٹی فروخت کرنا ممکن نہیں رہا، جس کے باعث قیمت میں اضافہ کرنا پڑا۔
روٹی عام شہریوں کی روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہے، اسی لیے اس کی قیمت بڑھنے پر شہریوں میں تشویش بھی پائی جاتی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ان کے ماہانہ اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔
ادھر آٹے اور روٹی کے بڑھتے نرخوں کے باوجود پرائس کنٹرول کے حوالے سے متعلقہ اداروں کی کارروائی پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مؤثر نگرانی کی جائے اور سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
نرخوں میں تازہ اضافے کے بعد کراچی میں تندوری روٹی مختلف علاقوں میں 30 سے 35 روپے تک فروخت ہورہی ہے، جبکہ تندور مالکان اسے بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔



















































